ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: جے شری رام نہ کہنے پر16 سالہ مسلم نوجوان کو زندہ جلایا گیا، پولیس بولی- متضاد بیان دے رہا ہے متاثرنوجوان

متاثرشخص کا نام خالد ہے اوراس کے اہل خانہ نےالزام لگایا ہےکہ خالد نےجےشری رام کا نعرہ لگانےسےانکارکردیا تھا۔ اسی کی سزا اسے دے دی گئی ہے۔ حالانکہ پولیس نے متاثرکے بیان کو جانچ میں غلط پایا ہے۔

  • Share this:
اترپردیش: جے شری رام نہ کہنے پر16 سالہ مسلم نوجوان کو زندہ جلایا گیا، پولیس بولی- متضاد بیان دے رہا ہے متاثرنوجوان
چندولی میں ایک نابالغ مسلم کو زندہ جلانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

چندولی میں ایک نوجوان  مشکوک حالت میں جل گیا۔ جلنے والا نوجوان کا تعلق ایک مخصوص (مسلم) طبقے سےہے، لہٰذا پورے پولیس محکمے میں ہنگامہ مچ گیا۔ ابتدائی دور میں کہا گیا کہ کچھ لوگوں (یادوبرادری) نےمل کراس نوجوان کوجلا کرمارنے کی کوشش کی ہے۔ آناً فاناً میں کئی تھانوں کی فورس جائےحادثہ پربھیج دی گئی۔  پولیس کےاعلیٰ افسران بھی موقع پرپہنچےاورجانچ پڑتال کی جانچ پڑتال کےدوران یہ پایا گیا کہ متاثرہ نوجوان کئی طرح کا بیان دے رہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ پولیس نےجب پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی تومتاثرہ نوجوان کی کہانی غلط ثابت ہوئی۔


دراصل چندولی ضلع کےسید راجا کا رہنے والا 16 سالہ خالد انصاری آج گھرسے باہرنکلا تھا۔ کچھ ہی دیربعد وہ جلی ہوئی حالت میں واپس گھرلوٹا۔ نوجوان کےذریعہ بتایا گیا کہ اسے کچھ لوگوں نےکیروسین تیل ڈال کرجلانے کی کوشش کی ہے۔ فوراً پولیس کواطلاع دی گئی۔ موقع پرپہنچی پولیس نےنوجوان کوضلع اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا۔ اس کے بعد نوجوان کووارانسی کےلئے ریفرکردیا گیا۔


اہل خانہ کی مانیں توروزانہ کی طرح آج صبح قضائے حاجت کےلئے نوجوان خالد گیا تھا، لیکن نصف گھنٹےسےزیادہ وقت گزرنے کے بعد تک گھرنہیں پہنچا۔ تواہل خانہ اسے دیکھنے کے لئے نکلے۔ تبھی اچانک متاثرشخص خالد انصاری بھاگتے ہوئےگھرپہنچا، جس سے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ نے آناً فاناً میں پولیس کواطلاع دی۔


الگ الگ جائے حادثہ کا ذکررہا ہے نوجوان

پولیس کے مطابق موقع پرپہنچی پولیس نےاسے ضلع اسپتال میں داخل کرایا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد اسے وارانسی ریفرکردیا ہے۔ زخمی نوجوان مسلسل اپنا بیان بدل رہا ہے۔ ساتھ ہی الگ الگ جائے حادثہ کا ذکربھی کررہا ہے۔ نوجوان نیشنل انٹرکالج میں کلاس 9 کا طالب علم ہے۔ اہل خانہ معاملے میں جانچ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ وہیں حادثہ کی سنگینی کودیکھتے ہوئے پولیس چھان بین میں مصروف ہوگئی ہے۔ جلے ہوئےنوجوان کے بدلتے بیانات کی بنیاد پرچارگھنٹے تک کرائم سین تلاش کرنےمیں مصروف پولیس کو مقامی اخبار'وکریتا' نے پہلی لیڈ دی۔ اخباروکریتا کےمطابق، اس نےنوجوان کوصبح اس کےگھرکےسامنےمزارسےآگ لگا کربھاگ کرجاتے ہوئے دیکھا تھا۔

پولیس کو موقع سے نہیں ملے ثبوت

پولیس جب موقع پرپہنچی تومزارکے باہرنوجوان کا کپڑا اورچپل بھی ملا ہے۔ موقع پرکسی طرح کی مخالفت کےثبوت بھی نہیں ملے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کےمطابق نوجوان نے جس جائے حادثہ کے بارے میں بتایا ہے، اس کے بالکل الٹی سمت میں چارکلومیٹردورایک مزارکے پاس سےاس کے کپڑے ملے ہیں۔ اب پولیس اس معاملے کی تہہ تک پہنچنےکےلئے  قانون سائنس لیبارٹری کی ٹیم کوبلاکرفورنسک ثبوتوں کوحاصل کررہی ہے۔ پولیس کےمطابق پہلی نظر میں یہ معاملہ توہم پرستی یا سماجی ہم آہنگی بگاڑنےکی سازش نظرآرہی ہے۔ دونوں پہلو پر پولیس گہرائی سے جانچ کررہی ہے۔
First published: Jul 29, 2019 08:30 PM IST