உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جےاین یومیں ہوئے تشدد کا معاملہ: 4مشتبہ افراد،پولیس حراست میں،مختلف مقامات پراحتجاجی مظاہرے

    ممبئی میں بھی مختلف کالجوں کےطلباء نے اظہار یکجہتی کاثبوت دیا۔(تصویر:اےاین آئی)۔

    ممبئی میں بھی مختلف کالجوں کےطلباء نے اظہار یکجہتی کاثبوت دیا۔(تصویر:اےاین آئی)۔

    دوسری یونیورسٹیوں کے طلباء بھی جے این یو کے طلباء کی حمایت میں آئے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ، اتوار کی شام کو دو طلباء گروپوں میں تصادم ہوا۔جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں بیتی شب جم کرتشدد اور ہنگامہ ہوا ۔ کچھ نقاب پوشوں نے یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں توڑ پھوڑ کی اور طلباءو ٹیچر س کی پٹائی کی۔ یہ پورے واقعات سی سی ٹی وی کیمروں میں قید ہوگئے۔ اس حملے میں 20 کے قریب طلباء اور اساتذہ زخمی ہوئے ہیں۔ شدید زخمیوں کو ایمس میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس تشدد کے بعد ، دوسری یونیورسٹیوں کے طلباء بھی جے این یو کے طلباء کی حمایت میں آئے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔



      جےاین یومیں ہوئے تشددکےخلاف آج ملک بھر میں کئی یونیورسٹیوں میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ممبئی میں بھی مختلف کالجوں کےطلباء نے اظہار یکجہتی کاثبوت دیا۔ انہوں نےتشددکےخلاف فوری گیٹ آف انڈیاکےپاس جمع ہوئے۔اوراحتجاجی مظاہرہ کیا۔انہوں نےحکومت سےمانگ کی کےجلد سے جلد معاملےکی جانچ کی جائے۔اورقصورواروں کوکیفرکردارتک پہنچایاجائے۔



      جےاین یوکیمپس میں تشددکےخلاف وہیں دیررات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلباءنےمظاہرہ کرتے ہوئے کینڈل مارچ نکالا۔ طلباءکاکہناتھاکہ جس طرح سےجےاین یومیں کچھ نقاب پوش شرپسندوں نےداخل ہوکرمارپیٹ کی ہےوہ انتہائی افسوس ناک ہے۔اس طرح سےطلباءکی آوازکودبانےکی کوشش کی جارہی ہے۔طلباءکی مانگ ہےکہ حکومت ایسےغنڈوں کےخلاف سخت سےسخت کاروائی کرے۔



      یادرہے کہ جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں بیتی شب جم کرتشدد اور ہنگامہ ہوا ۔ کچھ نقاب پوشوں نے یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں توڑ پھوڑ کی اور طلباءو ٹیچر س کی پٹائی کی ۔ اس حملہ میں جے این یو طلبہ یونین کی صدر آئشی گھوش سمیت کم سے کم 20 افراد زخمی ہوئے۔جن کا ایمس میں علاج چل رہا ہے ۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے اس حملہ کیلئے اے بی وی پی پر الزام عائد کیا ہے جبکہ اے بی وی پی نے اس کی پرزور تردید کی ہے ۔کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ایمس جاکر طلبہ سے ملاقات کی اور ان کی کیفیت دریافت کی ۔ ان کےعلاوہ بھی کئی دیگر سیاسی لیڈران بھی ایمس پہنچے اور طلبہ کی کیفیت جاننے کی کوشش کی ۔
      First published: