ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اس مرتبہ ہولی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے کیلئے ہوئی انوکھی پہل ، دیکھنے کو ملی کئی مثالیں

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یادگار بناتے ہوئے اس بار اترپردیش میں ہولی جوش و خروش اور روایتی طریقہ سے منائی گئی۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 02, 2018 08:14 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اس مرتبہ ہولی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے کیلئے ہوئی انوکھی پہل ، دیکھنے کو ملی کئی مثالیں
علامتی تصویر

لکھنو: فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یادگار بناتے ہوئے اس بار اترپردیش میں ہولی جوش و خروش اور روایتی طریقہ سے منائی گئی۔ گورنر رام نائک نے راج بھون میں ہولی منائی۔ راج بھون میں لوگوں کے گلے ملے اور ان کی خوشحالی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے حلقہ گورکھپور میں ہولی منائی جبکہ سابق وزیراعلی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو نے اپنے آبائی گاوں اٹاوہ کے سیفئی میں رنگوں کا تہوار منایا۔

اس موقع پر ان کے چاچا شیوپال سنگھ یادو کی ان کے ساتھ موجودگی موضوع بحث رہی۔ کچھ لوگوں نے قیاس آرا ئی شروع کردی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ چاچا بھتیجا میں صلح ہوجائے۔ اکھیلیش یادو نے چاچا شیوپال کے پیر چھوکر آشیرواد بھی لیا۔ اسمبلی اسپیکر ہردے نارائن دکشت نے لکھنو میں ہولی منائی۔

سال رواں کئی انوکھی مثالیں بھی دیکھنے کو ملیں ۔ جہاں اجودھیا میں متنازع رام جنم بھومی کے اہم پجاری ستیندر داس کی رہائش گاہ پر مسلمانوں نے بھی ہولی کھیلی ، وہیں ہولی کی وجہ سے مسلمانوں نے نماز جمعہ بھی تاخیر سے ادا کی۔ جمعہ کے دن ہولی اور جمعہ کی نماز کی وجہ سے ٹکراو کا اندیشہ تھا ، لیکن مسلمان بھائیوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی انوکھی مثال پیش کرتے ہوئے پوری ریاست میں ایک بجے سے نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس فیصلہ کا اعلان ایک دن پہلے ہی مولاناوں نے کردیا تھا۔

لکھنو میں ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا فرنگی محلی اور شیعہ عالم کلب جواد نے کہاکہ یہ فیصلہ بھائی چارہ کو مزید مضبوط کرنے کے لئے کیا گیا۔ اس فیصلہ کی وجہ سے تناو کا اندیشہ نہیں رہے گا۔

First published: Mar 02, 2018 08:06 PM IST