ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرتھل اجتماعی آبروریزی کے عینی شاہدین آئے سامنے، کہا : آنکھوں کے سامنے ہوا گھنونا کام

نئی دہلی : مرتھل میں جاٹ آندولن کی آڑ میں خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی خبروں سے ایک طرف جہاں ہریانہ پولیس انکار کر رہی ہے ، وہیں مسلسل اس معاملہ کے مسلسل عینی شاہدین سامنے آ رہے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے کہا کہ اس نے ان تمام واقعات کو خود دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ 22 فروری کو کئی لڑکوں نے لڑکیوں کو کھیتوں میں لے جا کر ان کے ساتھ گھنونا کام کیا۔

  • IBN7
  • Last Updated: Feb 27, 2016 05:48 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مرتھل اجتماعی آبروریزی کے عینی شاہدین آئے سامنے، کہا : آنکھوں کے سامنے ہوا گھنونا کام
نئی دہلی : مرتھل میں جاٹ آندولن کی آڑ میں خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی خبروں سے ایک طرف جہاں ہریانہ پولیس انکار کر رہی ہے ، وہیں مسلسل اس معاملہ کے مسلسل عینی شاہدین سامنے آ رہے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے کہا کہ اس نے ان تمام واقعات کو خود دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ 22 فروری کو کئی لڑکوں نے لڑکیوں کو کھیتوں میں لے جا کر ان کے ساتھ گھنونا کام کیا۔

نئی دہلی : مرتھل میں جاٹ آندولن کی آڑ میں خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی خبروں سے ایک طرف جہاں ہریانہ پولیس انکار کر رہی ہے ، وہیں مسلسل اس معاملہ کے مسلسل عینی شاہدین سامنے آ رہے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے کہا کہ اس نے ان تمام واقعات کو خود دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ 22 فروری کو کئی لڑکوں نے لڑکیوں کو کھیتوں میں لے جا کر ان کے ساتھ گھنونا کام کیا۔


عینی شاہد کے مطابق لڑکوں نے خواتین کو پہلے تو کہا کہ تم کو پيٹیں گے ، یہاں سے بھاگ جاؤ اور جب وہ بھاگنے لگیں ، تو ہجوم نے ان کے کپڑے پھاڑ دیے اور ان کے ساتھ غلط کام کیا۔ عینی شاہد کے مطابق اس نے سب دیکھا ہے ۔ اگر ملزم اس کے سامنے آئیں گے تو وہ انہیں پہچان لیں گے۔ اس واردات کو انجام دینے والے لڑکے ابھی سڑکوں پر کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ یہی نہیں یہاں کافی آتشزنی بھی کی گئی ہے۔ ہمارے سامنے گاڑیوں کو جلا دیا گیا۔ عینی نے بتایا کہ یہ سب کرنے والے لڑکے 20 سال سے کم عمر کے تھے۔


ایک دوسرے عینی شاہد کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو دور کھیتوں میں لے گئے تھے، 4-5 لڑکے گھوم رہے تھے، لڑکیوں کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے، وہ بھاگ رہی تھیں، وہ اپنی جان بچا کر بھاگ رہی تھیں، تاہم آبروریزی ہوتے نہیں دیکھا تھا۔


ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ مار پیٹ ہوئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ، کوئی مدد کرنے والا نہیں تھا، وہ لوٹ مار کر رہے تھے، آگ لگا رہے تھے، تھپڑ مار رہے تھے، لڑکیوں کے کپڑے پھاڑ رہے تھے، ہماری گاڑی جلا دی۔ ہزاروں لوگ تھے۔


ادھر ریاست کی سکریٹری جنرل راجکماری دہیا کا کہنا ہے کہ ہم وہاں گئے تھے، وہاں پر یہ بات سامنے آئی کہ خواتین کے ساتھ کچھ تو غلط ہوا ہے، لوگ خوفزدہ ہیں، پولیس سے خوفزدہ ہیں، اس وقت ماحول بہت خراب تھا، رات کا اندھیرا تھا ، کس طرح کوئی عینی شاہد ہو سکتا ہے۔ ایک سن رسیدہ خاتون نے بتایا کہ ایک خاتون برہنہ حالت میں تھی ، جس کے ہاتھ میں بچے تھے۔ لوگوں نے اس کو کپڑے دئے۔ اس نے کہا کہ ایک خاتون کے ساتھ 5 لڑکوں نے عصمت دری کی ، لیکن لڑکوں نے اس کو کسی کو بتانے سے منع کردیا۔


ادھر جی آئی جی راج شری سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر اس کسی نے کچھ دیکھا ہے ، تو ایک ذمہ دار شہری کی طرح ہمارے پاس آئیں اور ہمیں معلومات دیں، جو کپڑے ملے ہیں ، وہ ایف ایس ایل جانچ کے لئے بھیج دئے گئے ہیں، مجھے امید ہے کے حقیقت سامنے آئے گی۔

First published: Feb 27, 2016 05:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading