ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد: گنگا جمنا تہذیب کی علامت بن چکا سنگم بنا روشنی کا شہر

بسنت کا آغاز ہوتے ہی سنگم کے کنارے عقیدت مندو ں کے علاوہ بڑے پیمانے پر سیاحیوں کے آنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے ۔ میلے میں اس وقت لاکھوں لوگوں نے سنگم پر ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔

  • Share this:
الہ آباد: گنگا جمنا تہذیب کی علامت بن چکا سنگم بنا روشنی کا شہر
سنگم بنا روشنی کا شہر

الہ آباد۔ دو دریاؤں گنگا اور جمنا کا ملن سنگم ان دنوں روشنیوں کا سنگم بن گیا ہے ۔ پوری دنیا میں گنگا جمنی تہذیب کی علامت بن چکا سنگم کا کنارا ان دنوں روشنیوں کے شہر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ بسنت کا  آغاز ہوتے ہی سنگم کے کنارے  عقیدت مندو ں کے علاوہ بڑے پیمانے پر  سیاحیوں  کے آنے کا سلسلہ  بھی شروع ہو گیا ہے ۔ میلے میں اس وقت  لاکھوں لوگوں نے سنگم پر ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔


سنگم کے کنارے  ہونے والی روشنیوں کی سجاوٹ سے  ایسا لگتا ہے جیسے کہ تارے زمین پر اتر آئے ہیں ۔ بسنت پنچمی کا تیوہار سنگم کے کنارے کئی دنوں تک منایا جاتا ہے ۔بسنت پنچمی   کی تقریبات  کا آغاز ہوتے ہی سنگم کے کنارے بڑے پیمانے پر روشنیوں کی سجاوٹ کی جاتی ہے ۔ رات میں سنگم کا کنارہ بقعہ نور بن جاتا ہے ۔ روشنیوں کے اس شہر میں ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں عقیدت مندوں نے اپنا ڈیرہ ڈال دیا ہے ۔ ڈھائی ہزار بیگھے پر پھیلے  سنگم میلے  میں موجود  لاکھوں خیمے  ایک دوسری دنیا کا نظارہ  پیش کر رہے ہیں  ۔گرچہ سنگم کی ریت پر  ایک مہینے تک چلنے والا ماگھ میلہ اب اختتام کی طرف  گامزن ہے ۔لیکن میلے کے اختتام سے پہلے اس کی رونق  قابل دید ہے ۔


دو دریاؤں گنگا اور جمنا کا ملن سنگم ان دنوں روشنیوں کا سنگم بن گیا ہے


اسی درمیان سنگم کے کنارے روزانہ ہزاروں لوگوں کے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔سنگم پر  اسنان کرنے والے عقیدت مند جہاں ایک طرف  مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب سیاحوں کی بڑی تعداد سنگم پر ہونے والے چراغاں سے لطف اندوز ہو رہی ہے ۔ الہ آباد وہ شہر ہے جہاں دو دریاؤں یعنی گنگا اور جمنا کا ملن ہوتا ہے ۔ اسی مناسبت سے الہ آباد کو گنگا جمنی تہذیب کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ ہر سال سنگم کا یہ کنارہ ایک مہینے تک اپنی روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ اس روشنی کو دیکھنے کے لئے ملک سے لاکھوں عقیدت مند سنگم کے کنارے کھنچے چلے آتے ہیں۔
First published: Feb 03, 2020 06:28 PM IST