உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ذاکر نائیک کے ادارے پر پابندی عائد کئے جانے کی سید علی گیلانی نے کی شدید مذمت

    گیٹی امیجیز

    گیٹی امیجیز

    حریت چیئرمین نے کہا کہ اس ادارے کے قیام سے لے کر اب تک تقریباََ پندرہ سال کے طویل عرصے میں ڈاکٹر ذاکر نائک کی مقناطیسی شخصیت اور اُن کے تمام مذاہب کی وسیع تحقیقی علم اور ان کی حیران کن حد تک یادداشت کے سحر نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کو بھی انکا مداح بنایا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      سری نگر۔ بزرگ علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے عالمی شہرت یافتہ مشہور و معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک کی طرف سے چلائے جانے والے ادارے اسلامک ریسرچ فاوندیشن پر حکومت ہند کی طرف سے پابندی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ہندو راشٹر کے خدوخال اگرچہ پہلے سے ہی طے شدہ ہیں لیکن ان کی عملی صورت اب دھیرے دھیرے ظاہر ہورہی ہے ۔ بدھ کو یہاں جاری ایک بیان میں مسٹر گیلانی نے کہا کہ اس ادارے کی بنیاد1991میں ڈالی گئی اور تب سے یہ ادارہ اسلامی تعلیمات کے علاوہ اسلام کے متعلق پھیلائی جارہی غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کو قرآن و سنت کی روشنی میں دور کرنے کی حتی الامکان کوششوں میں مصروف عمل ہے، یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر ذاکر نائک تمام مذاہب کا تقابلی جائزہ پیش کرکے دلائل اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اپنا نقطہ نظر عوام کے سامنے رکھنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے تمام قانونی اور آئینی حدود کے اندر رہ کر جدید ٹیکنالوجی مثلاَ انٹرنیٹ ،اخبار،ٹی وی اور باقی تمام سہولیات کا استعمال کرکے پُر امن طریقے سے اپنی دعوت کا کام انجام دیا۔


      حریت چیئرمین نے کہا کہ اس ادارے کے قیام سے لے کر اب تک تقریباََ پندرہ سال کے طویل عرصے میں ڈاکٹر ذاکر نائک کی مقناطیسی شخصیت اور اُن کے تمام مذاہب کی وسیع تحقیقی علم اور ان کی حیران کن حد تک یادداشت کے سحر نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کو بھی انکا مداح بنایا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان کے دلائل سے متاثر اور قائل ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’ ہندوستان چونکہ ایک ہندو راشٹر ہے ۔اس کے انتہا پسند لیڈران کو یہ صالح اور خاموش تبدیلی راس نہیں آئی ،اس لئے اس کو نشانہ بنانے کے لئے ان شاطروں نے غلط پروپیگنڈہ کی بنیاد پر ادارے کی شبیہ مسخ کرنے کے لئے اپنے آقاؤں اور مسلم کش میڈیا سے حوصلہ پاکر اپنے ناپاک ارادوں کو عملی جامہ پہنا کر ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف پورے ملک میں ایک ایسی مہم چلائی کہ کوئی بھی ان شیطانی حربوں سے بچ نہ پایا‘۔ مسٹر گیلانی نے الزام عائد کیا کہ ایسے افراد اور اداروں کو بند کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ لوگ ہندوستان کو تمام اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں سے خالی کرنا چاہتے ہیں ۔


      انہوں نے کہا ’یہ لوگ کسی شعوری یا با ضمیر اور باغیرت مسلمان کو برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں، ان کی تنگ نظری اور ان کی سوچ صرف ان ہی مسلمانوں کی حد تک ہے جو برائے نام مسلمان تو ہوں لیکن سرتا پا زعفرانی رنگ میں رنگ چکے ہوں۔ یہ اس فاشسٹ نظام کے مسلمان چہرے ہیں جن کو یہ لوگ ٹی وی اسکرینوں اور مباحثوں میں لاکر زہریلا، فرقہ پرستانہ اور فریب کارانہ پروپیگنڈا ان سے ہی کرواتے ہیں‘۔ مسٹر گیلانی نے کہا کہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے موجودہ صورتحال پر غور و خوض کرکے قرآن و سنت کی بنیاد پر منظم ہوکر پوری یکسوئی اور یکجہتی کے ساتھ ایسی تمام نا انصافیوں اور انتقامی کاروائیوں کے توڑ کے لئے آگے آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ’اگر وہ اب بھی الگ الگ ٹولیوں میں بٹ کر اپنے اپنے مسلک کی حفاظت کے لئے اور اپنے مفادات کی خاطر قومی اور ملی مقصد کو ترجیح دینے میں ناکام رہے تو تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان میں مسلمانوں کو مندروں میں حاضری کے لیے مجبور کیا جائے گا، اُن کی مسجدوں کو شراب خانوں میں تبدیل کیا جائے گا اور ان کے قومی اداروں پر پابندی عائد کی جائے گی‘۔
      مسٹر گیلانی نے کہا کہ ہندو راشٹر کے پرچارک انسانی اقدار سے عاری ہوکر ایک بیٹے کو بھی باپ کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے ۔انھوں نے کہا ’ ڈاکٹر ذاکر نائک کے والد کے انتقال کے موقع پر انہیں ان کی تجہیز و تکفین میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ‘۔

      First published: