உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سہیل انجم نے خاکہ نگاری کو نئی جہت دی ہے: مقررین

    نئی دہلی ۔ خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ادب ہے جس سے کئی اصناف کی سرحدیں ملتی ہیں۔

    نئی دہلی ۔ خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ادب ہے جس سے کئی اصناف کی سرحدیں ملتی ہیں۔

    نئی دہلی ۔ خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ادب ہے جس سے کئی اصناف کی سرحدیں ملتی ہیں۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی ۔ خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ادب ہے جس سے کئی اصناف کی سرحدیں ملتی ہیں۔ ان سے بہ سلامت گزر جانا اصلی خاکہ نگار کی پہچان ہے۔ سہیل انجم نے خاکہ نگاری کے اصولوں کو نہ صرف برتا ہے بلکہ عقیدت کی آمیزش کرکے خاکہ نگاری کو ایک نئی جہت دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ان کی کتاب ’’نقش بر آب‘‘ کے اجرا کے موقع پر مقررین نے کیا۔


      غالب اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقدہ اس پروگرام میں این سی پی یو ایل کے سابق ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ پانی پر نقشہ بنانا ناممکن ہے۔ لیکن سہیل انجم نے مذکورہ کتاب کے توسط سے ایک بڑا کام کیا ہے جو پانی پر نقش بنانے سے کم نہیں۔ خاکہ نگاری میں عقیدت کو حائل نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن انھوں نے عقیدت کے ساتھ خاکے لکھ کر خاکہ نگاری کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔ کتاب میں بعض خاکے ایسے ہیں کہ اگر ان میں عقیدت نہ ہوتی تو تحریر میں جو رعنائی پیدا ہوئی ہے وہ نہ ہوتی۔ کتاب کی زبان بہت اچھی ہے۔ واقعات نگاری، منظر نگاری اور جزیات نگاری کا بھی بے مثال نمونہ اس میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس میں معاشرتی رنگ بھی پیش کیا گیا ہے۔


      انجم عثمانی نے کہا کہ سہیل انجم کی یہ کتاب ان کی اب تک کی کتابوں سے بالکل الگ ہے اور ان کی شناخت ایک ادیب اور خاکہ نگار کی بناتی ہے۔ صحافت آجکل ادبیت سے خالی ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن انھوں نے صحافتی ادب کی روایت کی جو تجدید کی ہے وہ قابل مبارکباد ہے۔ ان کی اب تک کی تمام کتابیں دماغ سے لکھی گئی ہیں مگر یہ کتاب دل سے لکھی گئی ہے۔ معصوم مرادآبادی نے خاکوں کی ستائش کرتے ہوئے تحریر کی شگفتگی، چاشنی و برجستگی کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے تمام خاکے بہت اچھے ہیں اور خاص طور پر صحافی محفوظ الرحمن کا خاکہ تو لاجواب ہے۔ اس میں انھوں نے ان سے اپنے تعلق کا جس انداز میں اظہار کیا ہے اس سے ان کی ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ ساتھ ان کے قلم کا جوہر بھی کھل کر سامنے آیا ہے۔


      فاروق ارگلی نے بھی تمام خاکوں کی ستائش کی لیکن یہ بھی کہا کہ محفوظ الرحمن اور قومی آواز کے ایڈیٹر موہن چراغی کے خاکے لاجواب ہیں۔ میں نے ایسے خاکے اب تک نہیں پڑھے ہیں۔ سہیل انجم نے یوں تو صحافت پر متعدد کتابیں لکھی ہیں لیکن اس کتاب سے انھوں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ خاکہ نگار کی حیثیت سے ان کی شناخت قائم ہو گئی ہے۔ منظور عثمانی نے بھی محفوظ الرحمن پر ان کے خاکے کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ خاکہ قابل مطالعہ ہے۔ ان کی شخصیت پر اتنے جامع اور بھرپور خاکے کی شکل میں نذرانۂ عقیدت وہی شخص پیش کر سکتا ہے جس کا روم روم اس عظیم ہستی سے عقیدت کی حد تک پیار کرتا ہو۔ انھوں نے قارئین کو مشورہ دیاکہ وہ ’’نقش بر آب‘‘ ضرور پڑھیں۔


       پروگرام کا آغاز غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد کے ابتدائی کلمات سے ہوا۔ نظامت ثاقب عمران نے کی۔ جبکہ متین امروہوی اور احمد علی برقی نے منظوم تاثرات پیش کیے۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں علمی و ادبی شخصیات موجود تھیں۔

      First published: