உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غازی آباد : تقسیم ہند کے بعد 1956 سے مقیم پاکستانی شہری محمد یونس کو پولیس نے کیا گرفتار

    یونس کی شادی دہلی کی ایک لڑکی سے  ہوئی ہے اور اس کے پاس دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں کا نام علی اور امن ہے جبکہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے

    یونس کی شادی دہلی کی ایک لڑکی سے ہوئی ہے اور اس کے پاس دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں کا نام علی اور امن ہے جبکہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے

    یونس کی شادی دہلی کی ایک لڑکی سے ہوئی ہے اور اس کے پاس دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں کا نام علی اور امن ہے جبکہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      غازی آباد : تقسیم ہندوستان کے بعد 1956 میں اپنے والدین کے ساتھ ہندوستان آنے والے محمد یونس کو غازی آباد پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ تھانہ انچارج مسوری دنیش کمار یادو کے مطابق یونس وارڈ 14 كانجي واڑا ڈاسنا میں رہتا تھا ۔ وہ بنیادی طور سے پاکستان میں کراچی کے گاؤں قادرآباد کا رہنے والا ہے۔
      پولیس کے مطابق وہ یہاں مزدوری کرتا تھا۔ تقسیم کے بعد 1956 میں یونس والدین کے ساتھ طویل مدتی ویزا پر آیا تھا ۔ تاہم والد کے انتقال کے بعد وہ یہیں بس گیا اور 61 سال سے وہ مسلسل ویزا کی تجدید کرا کر یہیں رہ رہا تھا۔ ادھر محمد یونس کا کہنا ہے کہ اپنے والد کے پاسپورٹ پر ہندوستان آیا تھا اور اس نے کئی مرتبہ اپنا ویزا رینیو بھی کروایا ۔ تاہم کچھ عرصہ سے کسی وجہ سے وہ اپنا ویزا رینیو نہیں کروا سکا ہے۔
      اصول کے مطابق طویل مدتی ویزا پر رہنے والا شخص نہ تو پراپرٹی خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کوئی ایسا شناختی کارڈ بنوا سکتا ہے، جس سے اس کی شہریت ہندوستان کی ظاہر ہو۔ تاہم یونس کا نام ڈاسنا نگر پنچایت کی ووٹر لسٹ میں تھا اور اس نے ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ بنوایا ہوا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ ڈاسنا میں اس کے پاس ایک مکان بھی ہے۔
      اس سلسلہ میں ایل آئی یو کو پتہ چلا ، تو سب انسپکٹر سبھاش چند نے اس کے خلاف رپورٹ درج کرائی۔ سبھاش چند کے مطابق یونس کے ویزا کی مدت 25 ستمبر کو ختم ہو گئی تھی اس کے اپ گریڈ کا عمل جاری ہے۔
      قابل ذکر ہے کہ یونس کی شادی دہلی کی ایک لڑکی سے  ہوئی ہے اور اس کے پاس دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں کا نام علی اور امن ہے جبکہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے۔
      First published: