உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گستاخِ رسول کی ایک ہی سزا: 'سر تن سے جدا' RSS میگزین میں کام کرنے والے صحافی کو ملی دھمکی

    فون کے ذریعے ایک پیغام بھیجا گیا تھا جس میں گستاخ رسول کی صرف ایک سزا کی دھمکی دی گئی تھی… ‘سر تن سے جدا’… ‘سر تن سے جدا’۔ پیغام دینے والے نے کہا کہ اسلام کے خلاف رپورٹنگ اور ایجنڈا چلانا بند کرو ورنہ۔۔۔

    فون کے ذریعے ایک پیغام بھیجا گیا تھا جس میں گستاخ رسول کی صرف ایک سزا کی دھمکی دی گئی تھی… ‘سر تن سے جدا’… ‘سر تن سے جدا’۔ پیغام دینے والے نے کہا کہ اسلام کے خلاف رپورٹنگ اور ایجنڈا چلانا بند کرو ورنہ۔۔۔

    فون کے ذریعے ایک پیغام بھیجا گیا تھا جس میں گستاخ رسول کی صرف ایک سزا کی دھمکی دی گئی تھی… ‘سر تن سے جدا’… ‘سر تن سے جدا’۔ پیغام دینے والے نے کہا کہ اسلام کے خلاف رپورٹنگ اور ایجنڈا چلانا بند کرو ورنہ۔۔۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Ghaziabad, India
    • Share this:
      غازی آباد۔ اتر پردیش کے غازی آباد میں ایک بار پھر 'سر قلم کرنے کی دھمکی' کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ غازی آباد کے اندرا پورم تھانہ علاقے کے وسندھرا علاقے میں رہنے والے صحافی نشانت کمار کو واٹس ایپ پر یہ دھمکی بھرا پیغام موصول ہوا ہے۔

      فون کے ذریعے ایک پیغام بھیجا گیا تھا جس میں گستاخ رسول کی صرف ایک سزا کی دھمکی دی گئی تھی… ‘سر تن سے جدا’… ‘سر تن سے جدا’۔ پیغام دینے والے نے کہا کہ اسلام کے خلاف رپورٹنگ اور ایجنڈا چلانا بند کرو ورنہ تمہارا سر بھی تمہارے جسم سے کاٹ دیا جائے گا۔

      واٹس ایپ پر اس طرح کا پیغام ملنے کے بعد نشانت کمار نے اندرا پورم پولیس اسٹیشن کو اس کی اطلاع دی جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ وہ وسندھرا علاقے میں رہتا ہے اور آر ایس ایس میگزین پنججنیہ میں صحافی بھی ہے۔ ایسے میں اس طرح کے پیغامات ملنے کے بعد وہ گھبراہٹ میں ہے۔ فی الحال پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور کہا ہے کہ معاملے کی جانچ کی جائے گی۔

      ناراض ٹیچر کو منانے کیلئے بچے نے اپنائی بیحد کیوٹ ٹرک، دیکھ کر آپ کو بھی آجائے پیار


      الرٹ! کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے والے بھی دھیان دں، ورنہ لگ جائے گا 1 ہزار کا جھٹکا

      اس سے قبل غازی آباد کے لوہیا نگر علاقے میں ڈاکٹر اروند وتس اکیلا کو بھی ایسی ہی دھمکی ملی تھی۔ اروند وتس ہندو تنظیموں سے وابستہ ہیں اور وہ یوپی اور بہار میں ہندو سوابھیمان منچ کے انچارج ہیں۔ یکم ستمبر کی رات کسی نے ان کے موبائل پر کال کی لیکن وہ سو رہے تھے اس لیے اسے ریسیو نہیں کرسکے۔ بعد میں انہوں نے اس نمبر پر کال کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کال ریسیو نہیں ہوئی۔ 2 ستمبر کو اسے اسی نمبر سے واٹس ایپ پر کال آئی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: