உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس میں رد و بدل کا امکان ، غلام نبی اور راج ببر کو اترپردیش کی ذمہ داریوں سے کیا جاسکتا ہےآزاد

    غلام نبی آزاد اور راج ببر ۔ فائل فوٹو

    غلام نبی آزاد اور راج ببر ۔ فائل فوٹو

    اترپردیش میں کانگریس کی کمان سنبھال رہے راج ببر اور انچارج غلام نبی آزاد کو ان کی موجودہ ذمہ داری سے آزاد کیا جاسکتا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنو: اترپردیش میں کانگریس کی کمان سنبھال رہے راج ببر اور انچارج غلام نبی آزاد کو ان کی موجودہ ذمہ داری سے آزاد کیا جاسکتا ہے۔ پارٹی ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ نئی دہلی میں 16مارچ کو شروع ہونے والے کانگریس کے تین روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد پارٹی کے صدر راہل گاندھی دونوں لیڈروں کو ان کے عہدہ سے ہٹاکر انہیں نئی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔
      ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں ریاست میں اختتام پذیر ہوئے الیکشن میں کانگریس کی خراب کارکردگی سے پارٹی گورکھپور اور پھولپور پارلیمانی حلقہ میں گیارہ مارچ کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں فتح کی امید کھو چکی ہے، حالانکہ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اثر والے گجرات، مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں میں کانگریس اگر اپنی حالت میں بہتری کرسکتی ہے تو اترپردیش میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔ گزشتہ انتخابات میں حالانکہ بی جے پی نے ایس پی اور بی ایس پی جیسی بڑی عوامی تائید والی جماعتوں کو بھی کنارے لگا دیا تھا مگر کانگریس ان جماعتوں کے بڑے لیڈروں کی مدد سے اپنی حالت کو مضبوط کرسکتی ہے۔
      سینئر لیڈر نے کہا کہ پارٹی کے جنرل سکریٹری غلام نبی آزاد کو اترپردیش کا انچارج بنائے جانے اور راج ببر کو صدرمقرر کرنے سے بھی کانگریس کی حالت میں بہتری نہیں آ سکی۔ 2014میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی 22سیٹوں سے گرکر محض دو میں سمٹ گئی۔ صرف اس وقت کی پارٹی صدر محترمہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی ہی اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب رہے۔
      گزشتہ برس اختتام پذیر ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس کی حالت خراب رہی تھی۔ اس الیکشن کو کانگریس نے ایس پی کے ساتھ اتحاد کرکے لڑا تھا۔ اس کے باوجود اس کے محض سات اراکین اسمبلی ہی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ذرائع نے دعوی کیا کہ ریاستی صدر کے طورپر مسلسل دو انتخابات میں پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد مسٹر ببر نے مسٹر راہل گاندھی کے سامنے اپنے استعفی کی پیشکش کی تھی مگر مسٹر گاندھی نے اسے نامنظور کرکے انہیں ایک اور موقع دیا تھا۔
      پارٹی کے سینئر لیڈر نے کہاکہ ریاست میں گزشتہ برس ہوئے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی سے ہائی کمان فکرمند ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ اس الیکشن میں ببر کی ٹیم الیکشن میں مناسب امیدواروں کا انتخاب کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ اسی وجہ سے پارٹی قیادت مسٹر ببر اور مسٹر آزادکی چھٹی کرسکتی ہے۔
      First published: