உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی، کانگریس پارٹی کو حب الوطنی کا سبق پڑھانا چھوڑ دے: غلام نبی آزاد

    نئی دہلی۔  راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے واقعہ کے سلسلے میں ملک بھر میں دیش بھکتی اور غداری پر اٹھے تنازعہ کے پیش نظر پارلیمنٹ میں "قوم پرستی" پر بحث کرانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس پارٹی کو حب الوطنی کاسبق پڑھانا چھوڑ دے۔

    نئی دہلی۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے واقعہ کے سلسلے میں ملک بھر میں دیش بھکتی اور غداری پر اٹھے تنازعہ کے پیش نظر پارلیمنٹ میں "قوم پرستی" پر بحث کرانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس پارٹی کو حب الوطنی کاسبق پڑھانا چھوڑ دے۔

    نئی دہلی۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے واقعہ کے سلسلے میں ملک بھر میں دیش بھکتی اور غداری پر اٹھے تنازعہ کے پیش نظر پارلیمنٹ میں "قوم پرستی" پر بحث کرانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس پارٹی کو حب الوطنی کاسبق پڑھانا چھوڑ دے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے واقعہ کے سلسلے میں ملک بھر میں دیش بھکتی اور غداری پر اٹھے تنازعہ کے پیش نظر پارلیمنٹ میں "قوم پرستی" پر بحث کرانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس پارٹی کو حب الوطنی کاسبق پڑھانا چھوڑ دے۔ مسٹر آزاد نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور حیدرآباد یونیورسٹی کے خصوصی حوالہ سے مرکزی اعلی تعلیمی اداروں میں پیدا صورتحال پر مختصر مدت بحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جب سے اقتدار میں آئی ہے اس نے یونیورسٹیوں اور اداروں کو سیاست زدہ کیا ہے اور وہاں کا ماحول بھی خراب کیا ہے اور قوم پرستی بمقابلہ غداری کا تنازع بھی کھڑا کیا ہے۔ اب تو بی جے پی کی طالب علم یونٹ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے حوصلے بھی بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جتنے تعلیمی ادارے ہیں، وہ کانگریس نے بنائے ہیں اور پنڈت جواہر لال نہرو کا ان میں کردار رہا ہے لیکن اس حکومت نے تعلیمی ادارے تو نہیں بنائے، لیکن انہیں برباد کیا ہے۔


      مسٹر آزاد نے کہا کہ جس طرح نیا مسلمان زیادہ پیاز کھاتا ہے، اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگ نئے نئےدیش بھکت بن کر اپنی حب الوطنی کا زیادہ مظاہرہ کر رہے ہیں کیونکہ آزادی کی لڑائی میں وہ کبھی جیل تو نہیں گئے لیکن آج وہ راہل گاندھی کی حب الوطنی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی دیش بھکتی کی طویل تاریخ ہے۔ 1857 سے لے کر آزادی کی جنگ اور اس کے بعد بھی۔ راہل گاندھی کے والد، دادی اور پرنانا سے لے کر چھڑنانا تک دیش بھکت رہے ہیں اور انہوں نے قربانیاں بھی دی ہیں ۔ اس لئے بی جے پی کانگریس کو حب الوطنی کا سبق پڑھانا چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں دو دن، تین دن، پانچ دن یا ہفتے بھر قوم پرستی پر بحث ہو اور پتہ چلے کہ صحیح قوم پرستی کیا ہے۔

      مسٹر آزاد نے حیدرآباد یونیورسٹی میں روہت ویمولا کی خود کشی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے روہت کو شروع سے ہی پریشان کیا۔ پریشد نے 2013 میں روہت کو آر ایس ایس کے خلاف مضامین لکھنے پر ایک ہفتے کے لئے جیل بھی بھجوایا تھا۔ مسٹر آزاد نے مسٹر ویمولا کی خودکشی سے پہلے وائس چانسلر کے نام لکھا گیا ایک خط بھی پڑھ کر سنایا جس میں اس نے یونیورسٹی سے دلت طالب علموں کے لئے زہر اور پھانسی کا پھندہ دینے کی بھی بات لکھی ہے۔

      First published: