ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شیخ حسینہ ہندوستان کی ڈکٹیشن پر اسلام پسندوں کے خلاف برسر جنگ ہوگئی ہیں: گیلانی کا الزام

سری نگر۔ وادی کشمیر کے بزرگ علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمان نظامی کو تختۂ دار پر چڑھانے پر اپنے گہرے صدمے اور رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حق میں جمعۃ المبارک 13مئی کو نماز کے بعد دُعائے مغفرت اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 12, 2016 10:34 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شیخ حسینہ ہندوستان کی ڈکٹیشن پر اسلام پسندوں کے خلاف برسر جنگ ہوگئی ہیں: گیلانی کا الزام
سری نگر۔ وادی کشمیر کے بزرگ علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمان نظامی کو تختۂ دار پر چڑھانے پر اپنے گہرے صدمے اور رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حق میں جمعۃ المبارک 13مئی کو نماز کے بعد دُعائے مغفرت اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

سری نگر۔ وادی کشمیر کے بزرگ علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمان نظامی کو تختۂ دار پر چڑھانے پر اپنے گہرے صدمے اور رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حق میں جمعۃ المبارک 13مئی کو نماز کے بعد دُعائے مغفرت اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بنگلہ دیش عملاً ہندوستان کا ایک صوبہ بن گیا ہے اور عوامی لیگ سربراہ و وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ہندوستان کی ڈکٹیشن پر اسلام پسند لوگوں کے خلاف برسر جنگ ہوگئی ہے۔ مسٹر گیلانی نے کہا کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے لیڈروں کو اسلام اور پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی جارہی ہے اور حکومت پاکستان کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہرممکن طریقے سے آواز اٹھائے اور اس سنگین مسئلے کو مسلم ممالک کی آرگنائزیشن او آئی سی کے فورم پر بھی زیرِ بحث لانے کی کوشش کرے۔


حریت چیئرمین نے یہاں جاری اپنے ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمان نظامی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ نظامی عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک وسیع الظرف اور دانشور قسم کے آدمی تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی تبلیغ کرنے اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کی کوششوں میں گزاردی۔ وہ ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے زندہ رہے اور ایک سرفروش مومن کی حیثیت سے تختۂ دار پر چڑھے۔ مسٹر گیلانی نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ مطیع الرحمان نظامی کی موت ایک سنگِ میل ثابت ہوگی اور یہ بنگلہ دیش میں ایک صالح انقلاب کی نوید بنے گی۔


انہوں نے کہا کہ ظُلم اور جبر کی عُمر بہت لمبی نہیں ہوتی ہے اور وہ وقت دور نہیں، جب ظالم اور جابر حکمرانوں کو مکافاتِ عمل کے تحت سزا ملے گی۔ دریں اثنا چیرمین حریت مسٹر گیلانی کی ہدایت پر وادی میں کل مختلف مقامات پر امیرِ جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمان نظامی کے حق میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور ان کی مغفرت اور بلندئ درجات کے لیے خصوصی دُعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ پرسنل سیکریٹری برائے چیرمین پیر سیف اللہ نے حیدرپورہ اور صدرِ ضلع سری نگر وگاندربل راجہ معراج الدین نے مسجد حمزہ (رض) لالچوک میں نمازِ جنازہ کی پیشوائی کی۔ نماز جنازہ میں شریک لوگوں نے بنگلہ دیشی حکومت کی بھرپور مذمت کی اور اس کارروائی کے خلاف احتجاج بلند کیا۔

First published: May 12, 2016 10:34 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading