ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

29دسمبر کو سرکار کا ایک سال پورا ہونے کی خوشی میں اردو اکیڈمی کی سوغات دے دیجئے ہیمنت سورین جی: نصیر افسر‎

اس عرضداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست جھارکھنڈ کی تشکیل ہوئے 20 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے مگر اردو والوں کا دیرینہ مطالبہ اب تک پورا نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ جھارکھنڈ کی تمام پڑوسی ریاستوں میں اردو اکیڈمی بخوبی کام کر رہی ہے.

  • Share this:
29دسمبر کو سرکار کا ایک سال پورا ہونے کی خوشی میں اردو اکیڈمی کی سوغات دے دیجئے ہیمنت سورین جی: نصیر افسر‎
جھارکھنڈ

رانچی: انجمن بقائے ادب رانچی ( رجسٹرڈ ) کا ایک نمائندہ وفد جھارکھنڈ اردو اکیڈمی کی فوری تشکیل کیلئے ریاست جھارکھنڈ کے ہردلعزیز وزیر اعلی ہیمنت سورین سے ملاقات کر کے ایک عرض داشت پیش کرے گا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ 29 دسمبر کو موجودہ ہیمنت سرکار کا خوش اسلوبی کے ساتھ ایک سال پورا ہونے کی خوشی میں جھارکھنڈ کے اردو داں طبقہ کو جھارکھنڈ اردو اکیڈمی کی شکل میں گراں قدر سوغات دے ڈالیں اور تاریخ اپنے نام رقم کر ڈالیں۔ اس عرضداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست جھارکھنڈ کی تشکیل ہوئے 20 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے مگر اردو والوں کا دیرینہ مطالبہ اب تک پورا نہیں کیا سکا ہے جبکہ جھارکھنڈ کی تمام پڑوسی ریاستوں میں اردو اکیڈمی بخوبی کام کر رہی ہے حتی کہ جھارکھنڈ کے ساتھ ہی تشکیل شدہ ریاستیں چھتیس گڑھ اور اتراکھنڈ میں بہت پہلے سے ہی اردو اکیڈمی سرگرم عمل ہے لیکن ریاست جھارکھنڈ اردو اکیڈمی سے اب تک محروم ہے۔


اس عرض داشت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بہار ری آرگنازیشن ایکٹ کے آرٹکل 70 کے تحت جو مراعات اردو داں حلقوں کو بہار میں حاصل تھیں وہ ہمیں جھارکھنڈ میں بھی ملنی ہی چاہئے ۔ یہ ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے جسے موجودہ حکومت کو ضرور پورا کرنا چاہئے ۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہوا تو اردو داں طبقہ آئیندہ انتخابات میں اپنا فیصلہ ظاہر کر سکتا ہے ۔ لیکن ہم موجودہ حکومت سے مایوس ہرگز نہیں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوئی مثبت قدم بہت جلد اٹھا کر ہم اردو داں طبقہ کو شکریہ کا موقع عنایت کیا جائیگا ۔


واضح رہے کہ ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی کے قیام کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے ۔ اس تعلق سے انجمن بقائے ادب ۔ جھارکھنڈ تنظیم ۔ آل مسلم یوتھ اسوسی ایشن جیسی تنظیمیں آواز اٹھاتے رہی ہیں لیکن اب تک کی ریاستی حکومتوں کے ذریعہ سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ سابقہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ اردو کے ساتھ مختلف زبانوں پر مشتمل لینگویج اکیڈمی کے قیام کے تعلق سے پہلے کی گئی تھی لیکن وہ بھی منصوبہ سرد خانے میں چلا گیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے اقلیت نوازی کا دمبھ بھرنے والی موجودہ ہیمنت سورین حکومت اردو اکیڈمی کے قیام کے تعلق سے کس طرح قدم اٹھاتی ہے ۔

Published by: sana Naeem
First published: Dec 22, 2020 11:17 PM IST