اپنا ضلع منتخب کریں۔

    نئے ایم پیز کو مزید موقع دیں، پی ایم مودی نے سرمائی اجلاس سے قبل پارٹیوں کو دیا مشورہ

     وزیر اعظم نریندر مودی فائل فوٹو

    وزیر اعظم نریندر مودی فائل فوٹو

    پی ایم مودی نے نوٹ کیا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان کو G-20 کی صدارت کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ ملک کے لیے دنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کو دکھانے کا موقع ہو سکتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Hyderabad | Lucknow | Karnataka | Gazipur
    • Share this:
      وزیر اعظم نریندر مودی نے آج بروز بدھ تمام فلور لیڈروں پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کے نتیجہ خیز سرمائی اجلاس کے لئے اجتماعی کوشش کریں۔ سرمائی اجلاس سے قبل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے ان سے شکایت کی ہے کہ رکاوٹوں کی وجہ سے انہیں ایوان میں بولنے کا موقع نہیں ملتا۔

      آنے والے سرمائی اجلاس کو اہم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سیشن میں موجودہ عالمی صورتحال میں ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جانے اور ملک کو آگے لے جانے کے نئے مواقع کو ذہن میں رکھا جائے اور اہم فیصلے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پی ایم مودی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ تمام فریقین بات چیت کو اہمیت دیں گے۔

      انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر بھی زور دیا کہ وہ پہلی بار کے ارکان پارلیمنٹ، نئے ممبران پارلیمنٹ، نوجوان ممبران پارلیمنٹ کو ان کے روشن مستقبل اور جمہوریت کی آنے والی نسل کو تیار کرنے کے لئے مزید مواقع فراہم کریں اور بات چیت میں ان کی شرکت میں اضافہ ہو۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      انھوں نے کہا کہ جس طرح سے ہندوستان نے عالمی برادری میں جگہ بنائی ہے، جس طرح سے ہندوستان کے ساتھ توقعات بڑھی ہیں اور جس طرح سے ہندوستان عالمی پلیٹ فارم پر اپنی شرکت بڑھا رہا ہے، جی 20 کی صدارت حاصل کرنا ایک بہت بڑا موقع ہے۔ پی ایم مودی نے مزید کہا کہ جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس نہ صرف ایک سفارتی تقریب ہے بلکہ جمہوریت کی ماں کی (ہندوستان) کو اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے دکھانے کا موقع ہے۔

      پی ایم مودی نے نوٹ کیا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان کو جی 20 کی صدارت کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ ملک کے لیے دنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کو دکھانے کا موقع ہو سکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: