உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیرمیں پیرا ملٹری فورسیزکی تعیناتی کوحکومت نےبتایا 'الیکشن سےقبل روٹین ایکسرسائز'۔

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    مرکزی حکومت کے ذریعہ نیم فوجی دستوں کی 100 کمپنیوں کو بھیجنے کے بعد طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

    • Share this:
      جموں وکشمیرمیں پیراملٹری فورسیز (نیم فوجی دستوں) کے10 ہزاراضافی جوانوں کی تعیناتی کووزارت داخلہ کے ذرائع نے الیکشن سے قبل کی جانے والی روٹین ایکسرسائزبتائی ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ نیم فوجی دستوں کی 100 کمپنیوں کوبھیجنےکے بعد طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ ان فوجی اہلکاروں میں سے 45 ٹکڑی سی آرپی ایف کی، 35 ٹکڑی بی ایس ایف کی اور10-10 کمپنیاں ایس ایس بی اورآئی ٹی بی پی کی ہیں۔ پولیس نے بھی اسے روٹین ایکسرسائزبتایا ہے۔ اس درمیان سیکورٹی اہلکاروں پر پتھر پھینکنے والوں اورکئی لیڈروں کوگرفتارکیا گیا ہے۔

      اس درمیان خبرہےکہ سپریم کورٹ میں پیرکودفعہ 35 اے پرسماعت ہوسکتی ہے۔ آرٹیکل 35 اے پرسماعت سے قبل سیکورٹی اہلکاروں نے تقریباً 150 لوگوں کونظربند کرلیا ہے۔ اس میں جماعت اسلامی جموں وکشمیرکے سربراہ سمیت اس کے کئی ممبران بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی کے پیش نظرحکومت نے وادی میں امن وامان بنائے رکھنے اورکسی ناگہانی حادثہ سےنمٹنےکے لئے ان نیم فوجی دستوں کووہاں بھیجا گیا ہے۔

      دفعہ 35 اے جموں وکشمیرکے لوگوں کوکچھ خصوصی اختیارات دیتا ہے۔ سری نگرمیں سرکاری میڈیکل کالج نے اپنے یہاں کے اسٹاف کی سردی کی تعطیلات منسوخ کردی ہیں اور ان سے پیرکوموجود رہنے کوکہا ہے۔
      First published: