உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکومت ہند نے برطانوی حکومت سے مالیہ کو ملک بدر کرنے کی درخواست کی

    نئی دہلی۔ ہندوستان نے برطانیہ سے اربوں روپے کے قرض دار کن گفشر ایئر لائنس کے مالک وجے مالیہ کو ملک بدر کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔

    نئی دہلی۔ ہندوستان نے برطانیہ سے اربوں روپے کے قرض دار کن گفشر ایئر لائنس کے مالک وجے مالیہ کو ملک بدر کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔

    نئی دہلی۔ ہندوستان نے برطانیہ سے اربوں روپے کے قرض دار کن گفشر ایئر لائنس کے مالک وجے مالیہ کو ملک بدر کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ ہندوستان نے برطانیہ سے اربوں روپے کے قرض دار کن گفشر ایئر لائنس کے مالک وجے مالیہ کو ملک بدر کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ وزارت خارجہ نے مالیہ کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے بعد برطانیہ سے انہیں ملک بدر کرنے کی باقاعدہ درخواست کی ہے۔ نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن اور لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے ذریعے برطانیہ کی وزارت خارجہ کو یہ درخواست بھیج دی ہے۔


      مسٹر سوروپ نے کہا کہ برطانیہ کو بتایا گیا ہے کہ مالیہ کے خلاف بلیک منی کو سفید کرنے سے روکنے سے متعلق قانون 2002 کے تحت ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے اور مالی بے ضابطگیوں کے پیش نظر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی درخواست پر ان کا پاسپورٹ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ مالیہ کو عدالت کا
      سامنا کرنے کیلئے یہاں پیش کرنا ضروری ہے۔ تقریبا 17 بینکوں سے کنگ فشر ائیر لائنز کے لئے 9 ہزار کروڑ روپے کے قرض نہ ادا کرنے پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مالیہ پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ ان کا سرکاری پاسپورٹ منسوخ کرنے اور برطانیہ کی حکومت سے انہیں ملک بدر کرنے کی درخواست کے ساتھ ہی یہاں راجیہ سبھا کی اخلاقیات کمیٹی نے مالیہ کی راجیہ سبھا کی رکنیت کو بھی منسوخ کرنے پر غور کرناشروع کر دیا  ہے۔


      ڈاکٹر کرن سنگھ کی صدارت والی کمیٹی نے اس سلسلے میں مالیہ کو ایک نوٹس بھیج کر کے ایک ہفتے میں جواب دینے کو کہا ہے جس کی مدت تین مئی کو ختم ہو جائے گی۔ امکان ہے کہ چار مئی کو مالیہ کی راجیہ سبھا کی رکنیت ختم کرنے کے بارے میں فیصلہ ہو جائے گا۔
      مسٹر سوروپ نے آگسٹا ویسٹ لینڈ معاملے میں ملزم جیمز کرشچین مشیل کی حوالگی کی درخواست پر برطانیہ کے جواب کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ابھی اس کا کوئی
      جواب نہیں آیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے 29 فروری کو مشیل کی حوالگی کی درخواست کی تھی۔

      First published: