உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کل جماعتی میٹنگ میں بائیں بازو نے اٹھایا افسپا کا مسئلہ ، جتیندر- یچوری میں نونک جھونك

    کل جماعتی وفد نے مرکز اور ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ کشمیرکے مسئلہ کا مستقل حل نکالنے کے لئے قومی اقتدار اعلی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کئے بغیر حریت سمیت تمام فریقوں سے بات چیت شروع کی جائے۔

    کل جماعتی وفد نے مرکز اور ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ کشمیرکے مسئلہ کا مستقل حل نکالنے کے لئے قومی اقتدار اعلی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کئے بغیر حریت سمیت تمام فریقوں سے بات چیت شروع کی جائے۔

    کل جماعتی وفد نے مرکز اور ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ کشمیرکے مسئلہ کا مستقل حل نکالنے کے لئے قومی اقتدار اعلی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کئے بغیر حریت سمیت تمام فریقوں سے بات چیت شروع کی جائے۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : کل جماعتی وفد نے مرکز اور ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ کشمیرکے مسئلہ کا مستقل حل نکالنے کے لئے قومی اقتدار اعلی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کئے بغیر حریت سمیت تمام فریقوں سے بات چیت شروع کی جائے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں کشمیر کی وادی کے دو دن کے دورے سے واپس آئے کل جماعتی وفد کی آج یہاں تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں وادی میں حالات معمول پر لانے کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومت کسےضروری اور کارگر قدم اٹھانے کا درخواست کی ۔
      اجلاس میں کانگریس نے دو فارمولے پیش کئے اور بائیں بازو کی جماعتوں نے پانچ تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کیا گیا جس میں کشمیر کے تازہ حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ مہذب معاشرے میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور قومی اقتدار اعلی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
      سیاسی پارٹیاں کشمیر میں پیلیٹ گن کے استعمال کے بھی خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ اب تک جو پیلیٹ گن سے زخمی ہوئے ہیں ، انہیں کا بہتر علاج کرایا جائے ۔ اس کے علاوہ سیاسی پارٹیوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ ایسے مدارس اور مساجد پر کارروائی کی جائے ، جو مذہب کے نام پر کشیدگی پھیلاتے ہیں۔
      لیفٹ پارٹیوں نے جموں و کشمیر سے آرمڈ فورس اسپیشل پاور ایکٹ کو ہٹانے اور سیکورٹی فورسز کے خلاف الزامات کی عدالتی جانچ کی سفارش کی ۔ لیفٹ کی اس سفارش کے بعد بی جے پی نے لیفٹ پر سیاسی حملہ شروع کردیا۔ مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر نرملا سیتا رمن نے یچوری پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ سیتارام یچوری کو کشمیر بھول کیرالہ میں تشدد کی فکر کرنی چاہئے۔ وہاں امن اور قانون نافذ کرنے پر زور دینا چاہئے۔ حریت پر کیا کرنا ہے یہ حکومت اور وزارت داخلہ طے کرے گا۔
      تاہم کل جماعتی اجلاس میں اس وقت ایک غیر آرام دہ صورت حال پیدا ہو گئی جب سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری اور وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جيتندر سنگھ اجلاس سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں کی بات میں تضاد دیکھا گیا۔ سیتارام یچوری نے کہا کہ رہائشی علاقوں سے افسپا ختم کیا جانا چاہئے ۔
      First published: