ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرکز کی ریاستوں کو سخت ہدایت۔ لاک ڈاون میں اپنے حساب سے نہیں دے سکتے چھوٹ

مرکزی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے قہر کو قابو میں کرنے کے لئے ملک گیر سطح پر لاک ڈاون کو وزارت داخلہ کی طرف سے جاری رہنما خطوط کو ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام خطے کمزور نہیں کر سکتے۔

  • Share this:
مرکز کی ریاستوں کو سخت ہدایت۔ لاک ڈاون میں اپنے حساب سے نہیں دے سکتے چھوٹ
مرکزی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے قہر کو قابو میں کرنے کے لئے ملک گیر سطح پر لاک ڈاون کو وزارت داخلہ کی طرف سے جاری رہنما خطوط کو ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام خطے کمزور نہیں کر سکتے۔

نئی دہلی۔ ملک میں کورونا وائرس (Covid-19 Pandemic) کی وجہ سے لاک ڈاون (Lockdown)  کا آج 27 واں دن ہے۔ مرکزی حکومت نے آج سے لاک ڈاون کے تحت کچھ شرطوں کے ساتھ محدود چھوٹ دی ہے۔ حالانکہ، کیرالہ حکومت نے وزارت داخلہ کے رہنما خطوط سے باہر جا کر ریاست میں کچھ اضافی رعایتیں دینے کا اعلان کیا ہے جو اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کیرالہ سمیت بقیہ ریاستوں کو رہنما خطوط کو نظر انداز نہیں کرنے کی ہدایت دی ہے۔


مرکزی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے قہر کو قابو میں کرنے کے لئے ملک گیر سطح پر لاک ڈاون کو وزارت داخلہ کی طرف سے جاری رہنما خطوط کو ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام خطے کمزور نہیں کر سکتے۔ ریاستیں ملک گیر لاک ڈاون کی مدت کے دوران اپنے حساب سے سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے سکتیں۔


ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو لکھے گئے مکتوب میں مرکزی داخلہ سکریٹری اجے بھلا نے کہا ہے کہ صرف انہیں سرگرمیوں، خدمات کو شروع کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جس کی اجازت مرکزی حکومت نے اپنے رہنما خطوط میں دی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ کچھ ریاستوں نے خود سے معاشی سرگرمیوں کی اپنی فہرست بنائی اور آج سے کووڈ۔ انیس لاک ڈاون پابندیوں میں چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے صاف کہا ہے کہ اس کی اجازت نہیں ہے۔



مرکزی داخلہ سکریٹری نے اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے پچھلے مہینے جاری کردہ احکامات کا بھی ذکر کیا۔ وزارت داخلہ نے کہا’’ یہ دھیان میں آیا ہے کہ کچھ ریاستیں، مرکز کے زیر انتظام خطے احکامات جاری کر کے ان سرگرمیوں کی بھی اجازت دے رہے ہیں جو ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ  2005 کے تحت جاری کردہ رہنما خطوط میں شامل نہیں ہیں۔ ایسا کر کے وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں‘‘۔
First published: Apr 20, 2020 11:47 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading