ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نیرومودی کو ہندوستان لانے کی کوششیں تیز، حکومت نے تین ممالک کولکھا خط

پنجاب نیشنل بینک میں ہوئے تقریباً 13 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کے اہم ملزم نیرو مودی کو ہندوستان لانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ نیوز 18 کو ملی اطلاع کے مطابق نیرو مودی کو پکڑنے کے لئے وزارت خارجہ میں مسلسل میٹنگیں چل رہی ہیں۔

  • Share this:
نیرومودی کو ہندوستان لانے کی کوششیں تیز، حکومت نے تین ممالک کولکھا خط
نیرو مودی ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: پنجاب نیشنل بینک میں ہوئے تقریباً 13 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کے اہم ملزم نیرو مودی کو ہندوستان لانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ نیوز 18 کو ملی اطلاع کے مطابق نیرو مودی کو پکڑنے کے لئے وزارت خارجہ میں مسلسل میٹنگیں چل رہی ہیں۔


گزشتہ ہفتہ وزارت خارجہ کے افسران نے سی بی آئی اورای ڈی کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس میٹنگ کے دوران سوال اٹھائے گئے کہ فروری میں پاسپورٹ منسوخ ہونے کے باوجود نیرومودی کیسے ایک سے دوسرے ملک میں گھوم رہا ہے۔


ذرائع کے مطاق صرف پاسپورٹ منسوخ ہونے پرگرفتاری نہیں کی جاسکتی ہے۔ کئی ملک اسے نہیں مانتے ہیں۔ حالانکہ یہ ملک انٹرپول کے ذریعہ جاری کئے گئے ریڈ کارنر نوٹس کو ضرورمانتے ہیں، لیکن ابھی تک ریڈ کارنر نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔


واضح رہے کہ انٹرپول کے ذریعہ جاری کیا گیا ریڈ کارنر نوٹس کسی بھی مجرم کو پکڑنے کے لئے پوری دنیا میں درست عمل ہے۔ اس درمیان غیرملکی سکریٹری وجے گوکھلے نے نیرومودی کے معاملے پرمنگل کوایک میٹنگ بلائی۔ تین یوروپین ممالک کو "نوٹ وربلس"  (مخالفت خط) پھرسے دی گئی ہے۔ یہ تین ملک ہیں برطانیہ، بیلجیم اور فرانس۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ نیرو مودی ان ممالک میں ہی پوشیدہ ہے۔ وزارت ان ممالک کے رابطے میں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیرو مودی کو پکڑنے کے لئے دو متبادل ہیں۔ پہلے یہ کہ ہندوستان کو انٹر پول سے ریڈ کارنر نوٹس حاصل کرنا ہوگا۔ کہا جارہا ہے کہ پاسپورٹ، عدالتی نوٹس اورنیرو مودی کے خلاف دیگرثبوتوں کے ساتھ ایجنسیاں انٹرپول پرریڈ کارنرنوٹس کے لئے دباوبناسکتی ہیں۔ پاسپورٹ پہلے ہی منسوخ ہوچکا ہے۔

دوسرا متبادل یہ ہے کہ ہندوستان نیرومودی کے ٹھکانے کا صحیح مقام کا پتہ لگائے، یعنی یہ پتہ چلنا چاہئے کہ وہ کس ملک میں ہیں۔ ایک باراس کے ٹھکانے کے بارے میں پتہ لگ جانے پرہندوستان حوالگی کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہندوستان کا اس ملک کے ساتھ حوالگی کا معاہدہ ہے یا نہیں۔
First published: Jun 27, 2018 07:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading