உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ساہتیہ اکیڈمی کی میٹنگ کل ، ادیبوں سے لے کر حکومت تک کی نظر

    نئی دہلی: کنڑکے مشہور ادیب ایم اس کلبرگی کے قتل اور فرقہ پرستی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اب تک پچاس سے زائد ادیبوں کے ذریعہ انعامات لوٹائے جانے کے مدنظر ساہتیہ اکیڈمی کی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

    نئی دہلی: کنڑکے مشہور ادیب ایم اس کلبرگی کے قتل اور فرقہ پرستی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اب تک پچاس سے زائد ادیبوں کے ذریعہ انعامات لوٹائے جانے کے مدنظر ساہتیہ اکیڈمی کی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

    نئی دہلی: کنڑکے مشہور ادیب ایم اس کلبرگی کے قتل اور فرقہ پرستی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اب تک پچاس سے زائد ادیبوں کے ذریعہ انعامات لوٹائے جانے کے مدنظر ساہتیہ اکیڈمی کی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی: کنڑکے مشہور ادیب ایم اس کلبرگی کے قتل اور فرقہ پرستی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اب تک پچاس سے زائد ادیبوں کے ذریعہ انعامات لوٹائے جانے کے مدنظر ساہتیہ اکیڈمی کی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔


      اس میٹنگ پر ملک بھر کے ادیبوں کی ہی نہیں بلکہ حکومت کی بھی نگاہ ہے ۔ اس درمیان ادیبوں نے کل اپنا احتجاج در ج کرنے کیلئے ایک خاموش جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ انگریزی کی مشہور ادیبہ انیتا دیسائی اور وکرم سیٹھ نے کہا کہ وہ اکیڈمی کی میٹنگ کا انتظار کررہے ہیں اس کے بعد انعام واپس کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔


      گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ شاعر کیدارناتھ سنگھ نے بھی اس میٹنگ پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں ۔ ہندی کے کئی ادیب بھی اکیڈمی کی میٹنگ کے بعد انعام لوٹانے یا نہیں لوٹانے کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔


      اس دوران راجستھان کے شاعر امبیکا دت نے کل اکیڈمی ایوار ڈ لوٹا دیا ۔ انہیں 2013میں یہ انعام دیا گیا تھا۔


      مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور نے بھی انعام لوٹانے والے ادیبوں کی حمایت کی ہے۔بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مشہور ادیب شانتا کمار نے کہا کہ انعام لوٹانے والے ادیبوں کے جذبات کا خیال رکھا جانا چاہئے اور یہ کہنا غلط ہے کہ یہ ادیب سازش کے تحت انعامات لوٹا رہے ہیں۔


      اکیڈمی کے ذرائع کے مطابق میٹنگ میں مسٹر کلبرگی کے قتل کے مدنظر ادیبوں کی سیکورٹی اور انعام لوٹانے سے پیدا صورت حا ل پر بھی غور کیا جائے گا۔ میٹنگ میں کلبرگی کے قتل کے سلسلے میں ایک مذمتی قرارداد بھی منظور کئے جانے کی امید ہے۔

      First published: