உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Retail Prices: حکومت کی جانب سے ریٹیل قیمتوں کو کم کرنے کی پہل، گندم کی درآمد پر غور کرنے کا امکان

    آٹے کی برآمدات کے معیار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

    آٹے کی برآمدات کے معیار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

    اس ماہ کے شروع میں حکومت نے میدہ، سوجی اور گندم کے آٹے کی تمام اقسام (آٹا) کی برآمدات کو بھی محدود کر دیا، جو 14 اگست سے لاگو ہوگیا۔ اب ان کی برآمدات کی اجازت گندم کی برآمدات پر بین وزارتی کمیٹی (IMC) کی منظوری سے مشروط ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      ہندوستان میں ملکی گندم کے ذخائر میں کمی آئی ہے اور صارفین کی جانب سے گندم کی طلب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گندم کی قیمتوں کے ضمن میں افراط زر تقریباً 12 فیصد ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی حکام بیرون ملک سے خریدنے اور گندم پر 40 فیصد درآمدی ٹیکس کو کم یا ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ کچھ علاقوں میں فلور ملرز کو درآمد کرنے میں مدد مل سکے۔

      سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خوردہ گندم کی مہنگائی اپریل سے سال بہ سال 9 فیصد سے اوپر رہی اور جولائی میں بڑھ کر 11.7 فیصد ہو گئی، جبکہ ہول سیل قیمتیں جولائی میں 13.6 فیصد بڑھ گئیں۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث حکام اب بیرون ملک سے خریداری کی تیاری کر رہے ہیں۔

      حال ہی میں خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ ہندوستان گندم کی درآمد پر 40 فیصد ڈیوٹی ختم کر سکتا ہے اور دنیا کے دوسرے سب سے بڑے پروڈیوسر میں ریکارڈ قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش کرنے کے لیے تاجروں کے اسٹاک کی مقدار کو محدود کر سکتا ہے۔ اس سال مارچ میں،ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر نے ہندوستان کی گندم کی پیداوار کو خطرے میں ڈال دیا۔ اس نے ملک میں گندم کی قیمتوں کو اوپر کی طرف دھکیل دیا۔ اس وقت گندم کی یومیہ اوسط خوردہ قیمت 19.34 فیصد بڑھ کر 29.49 روپے فی کلوگرام ہو گئی، جو ایک سال پہلے 24.71 روپے فی کلوگرام تھی۔ اس کے بعد مئی میں حکومت نے مقامی مارکیٹ میں خوراک کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری طور پر گندم کی برآمد پر پابندی عائد کردی۔

      اس ماہ کے شروع میں حکومت نے میدہ، سوجی اور گندم کے آٹے کی تمام اقسام (آٹا) کی برآمدات کو بھی محدود کر دیا، جو 14 اگست سے لاگو ہوگیا۔ اب ان کی برآمدات کی اجازت گندم کی برآمدات پر بین وزارتی کمیٹی (IMC) کی منظوری سے مشروط ہے۔

      گندم کی برآمد کی اجازت دینے کے لیے کمیٹی (IMC) تشکیل دی گئی۔ عبوری انتظامات سے متعلق فارن ٹریڈ پالیسی 20-2015 کے پیرا 1.05 کے تحت کی گئی دفعات اس نوٹیفکیشن کے تحت لاگو نہیں ہوں گی۔ ڈی جی ایف ٹی کے حکم کے مطابق ان اشیاء کے معیار کے حوالے سے ضروری طریقوں کو الگ سے مطلع کیا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      پچھلے مہینے بھی مرکز نے گندم کی عالمی رسد میں رکاوٹ کے درمیان سادہ آٹے کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی۔ ڈی جی ایف ٹی نے کہا تھا کہ گندم اور گندم کے آٹے میں عالمی سطح پر سپلائی میں رکاوٹوں نے بہت سے نئے کھلاڑی پیدا کیے ہیں اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ممکنہ معیار سے متعلق مسائل کو جنم دیا ہے۔ لہذا ہندوستان سے گندم کے آٹے کی برآمدات کے معیار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: