உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکومت اتراکھنڈ معاملہ پر بحث کیلئے تیار ، ضرورت پڑی تو راہل گاندھی سے بھی کرے گی بات چیت

    نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے سیشن کے آغاز سے عین قبل آج حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک کی ترقی اور وسیع تر عوامی مفادات کے حق میں اتراکھنڈ سمیت تمام امور پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے ۔

    نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے سیشن کے آغاز سے عین قبل آج حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک کی ترقی اور وسیع تر عوامی مفادات کے حق میں اتراکھنڈ سمیت تمام امور پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے ۔

    نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے سیشن کے آغاز سے عین قبل آج حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک کی ترقی اور وسیع تر عوامی مفادات کے حق میں اتراکھنڈ سمیت تمام امور پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے سیشن کے آغاز سے عین قبل آج حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک کی ترقی اور وسیع تر عوامی مفادات کے حق میں اتراکھنڈ سمیت تمام امور پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے ۔ یہاں تک کہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے تاکہ پارلیمنٹ کا اجلاس خوش اسلوبی سے چلایا جاسکے اور ریل بجٹ ، عام بجٹ اور جی ایس ٹی بل سمیت شامل فہرست تمام بلوں کو پاس کرایا جاسکے۔
      مرکزی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور و اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ ہر چند کہ اتراکھنڈ کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ، اپوزیشن کے اصرار پر حکومت اس پر بات کرنے کو تیار ہے ۔ اس محاذ پر ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے نقوی نے یہاں تک کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانے کے لئے ناگزیر صورت میں حکومت کانگریس کے نائب صدر سے بھی رجو ع کرنے کو تیار ہے اگر کانگریس ایسا ہی چاہتی ہے۔
      انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بہتر ڈھنگ سے چلانے کے بارے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی سمیت کئی اہم اپوزیشن لیڈروں سے بات چیت کی جاچکی ہے۔ اس لئے امید ہے کہ شیڈولڈ کاسٹ، شیڈولڈ ٹرائبز، انڈین ٹرسٹ ترمیمی بل، انڈسٹریل ڈولپمنٹ بل، فائنانس بل، مائیکرو میڈیم انڈسٹریز بل سمیت کارروائی کی فہرست میں شامل تمام بلوں پر بحث کرانے اور انہیں پاس کرانے میں حکومت کامیاب رہے گی۔
      مسٹر نقوی نے کہا کہ سرخیوں میں رہنے والے اتراکھنڈ کے مسئلے پر کانگریس کی طرف سے بحث کرانے کا نوٹس موصول ہوا ہے، جس پر حکومت بحث کرانے کے لئے تیار ہے۔ اتراکھنڈ کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں مرکزی حکومت نے نہ تو کسی جلدبازی میں کوئی فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی کوئی غیر آئینی فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ وہاں ہریش راوت حکومت کے اقلیت میں آجانے کے بعد ممبران اسمبلی کی خریدوفروخت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، جس سے سنگین آئینی بحران پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا، جس کے پیش نظر حکومت نے اپنی آئینی ذمہ داری نبھائی۔
      مسٹر نقوی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نہ تو اتراکھنڈ حکومت کو برخاست کیا ہے اور نہ ہی اسمبلی کو تحلیل کیا ہے ۔ بلکہ صرف اسمبلی کو معطل کرکے وہاں صدر راج کے نفاذ کے ذریعے سنگین آئینی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کانگریس کی سابقہ مرکزی حکومتوں کا سب سے خراب ریکارڈ رہا ہے۔ جب ریاستی حکومتوں کو براہ راست برخاست کردیا جاتا تھا اور اسمبلیوں کو تحلیل کردیا جاتا تھا ۔ ماضی میں اس نے ایسا بار بار کیا گیا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مرکز کی مودی حکومت نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے، جس سے آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔
      First published: