உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    GST Council Meeting: جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ، ٹیکسٹائل اور جوتے ٹیکس میں اضافے پر ہوگا اہم فیصلہ

    تلنگانہ کے وزیر صنعت کے ٹی راما راؤ نے بھی مرکز پر زور دیا ہے کہ وہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں اضافے کے اپنے مجوزہ منصوبے کو واپس لے۔

    تلنگانہ کے وزیر صنعت کے ٹی راما راؤ نے بھی مرکز پر زور دیا ہے کہ وہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں اضافے کے اپنے مجوزہ منصوبے کو واپس لے۔

    مغربی بنگال کے سابق وزیر خزانہ امیت مترا نے مرکزی وزیر خزانہ سے ٹیکسٹائل میں 5 فیصد سے 12 فیصد تک مجوزہ اضافے کو واپس لینے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس سے تقریباً ایک لاکھ ٹیکسٹائل یونٹس بند ہوں گے اور 15 لاکھ ملازمتیں ختم ہوں گی۔

    • Share this:
      GST Council Meeting: مرکزی حکومت نے کہا کہ جی ایس ٹی کونسل جمعہ 31 دسمبر کو وزیر خزانہ نرملا سیتارامن (Nirmala Sitharaman) کی صدارت میں اپنی 46 ویں میٹنگ بلانے والی ہے۔ میٹنگ میں کئی فیصلے لیے جائیں گے اور حکومت نے مبینہ طور پر کورونا سے تحفظ کے ضمن میں حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ریاست سے صرف دو نمائندوں کو مدعو کیا ہے۔

      یہ میٹنگ کئی ریاستی حکومتوں اور تاجر تنظیموں کے ٹیکسٹائل اور جوتے کی اشیا پر جی ایس ٹی 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کے سلسلے میں ہونے والے احتجاج کے تناظر میں ہوگی۔ میٹنگ میں کونسل دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی شرح کو منطقی بنانے پر ریاستی وزرا کے پینل کی رپورٹ پر بھی تبادلہ خیال کرے گی۔ ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام جوتوں (جو 1000 روپے سے کم قیمت والے ہوں) پر 12 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ دوسری طرف سوائے کپاس سے بنے ہوئے تمام ریڈی میڈ ٹیکسٹائل پر بھی 12 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ پہلے یہ اشیا 5 فیصد جی ایس ٹی کی شرح پر فروخت ہوتی تھیں۔

      ٹیکسٹائل یونٹس اور ملازمتوں کے خاتمہ کا اندیشہ:

      مغربی بنگال کے سابق وزیر خزانہ امیت مترا نے مرکزی وزیر خزانہ سے ٹیکسٹائل میں 5 فیصد سے 12 فیصد تک مجوزہ اضافے کو واپس لینے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے تقریباً ایک لاکھ ٹیکسٹائل یونٹس بند ہوں گے اور 15 لاکھ ملازمتیں ختم ہوں گی۔

      مترا نے 26 دسمبر کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’مرکزی حکومت یکم جنوری کو ایک اور غلطی کرے گی۔ ٹیکسٹائل پر جی ایس ٹی 5 فیصد سے 12 فیصد بڑھانے سے 15 ملین نوکریاں ختم ہو جائیں گی اور 1 لاکھ یونٹ بند ہو جائیں گے۔ مودی جی ابھی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ بلائیں اور لاکھوں عام لوگوں کے سروں پر بے روزگاری کی تلوار گرنے سے پہلے فیصلہ واپس لے لیں‘‘۔

      تلنگانہ کے وزیر صنعت کے ٹی راما راؤ نے بھی مرکز پر زور دیا ہے کہ وہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں اضافے کے اپنے مجوزہ منصوبے کو واپس لے۔ صنعت نے بھی پانچ فیصد سے ٹیکس میں اضافے کی مخالفت کی ہے۔ خاص طور پر غیر منظم شعبے اور ایم ایس ایم ایز (MSMEs) کے حوالہ سے کہا کہ اگر شرح ٹیکس میں اضافہ کیا جائے غریب آدمی کا لباس تک مہنگا ہو جائے گا۔

      تاجر تنظیموں کا مطالبہ:

      تاجر تنظیموں نے مرکز کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں میں تبدیلی سے غریبوں پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ نئی ٹیکس تبدیلی سے کپڑوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے غریب آدمی کو کپڑے خریدنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سی این بی سی کے مطابق میٹنگ میں کونسل ٹیکسٹائل اور جوتے 1,000 روپے سے کم قیمت پر جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے کو موخر کرنے پر تبادلہ خیال کر سکتی ہے۔ تاجروں کی اعلیٰ تنظیم کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (CAIT) نے حکومت کو لکھے ایک خط میں کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی غیر معقول ہے اور چھوٹے صنعت کاروں، کاریگروں اور دیگر طبقات کی روزی روٹی کو متاثر کرے گا۔

      آج پری بجٹ میٹنگ:

      جی ایس ٹی کونسل کی 46 ویں میٹنگ 31 دسمبر 2021 جمعہ کو دہلی میں ہوگی، ایک عہدیدار نے بتایا کہ 30 دسمبر کو ریاستی وزرائے خزانہ کے ساتھ پری بجٹ میٹنگ بھی ہوگی۔ وہ کونسل کو رپورٹ پیش کریں گے۔ جس میں ان مسائل کے ضمن میں حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔

      اس کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے ٹیکس افسروں پر مشتمل فٹمنٹ کمیٹی نے جی او ایم کو سلیب اور ریٹ میں تبدیلی کرنے اور اشیا کو مستثنیٰ کی فہرست سے باہر کرنے کے سلسلے میں بہت سی سفارشات پیش کی ہیں۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: