اپنا ضلع منتخب کریں۔

    گجرات میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے کمیٹی تشکیل، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

    Youtube Video

    بہت سے سیاسی رہنماؤں نے یو سی سی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں برابری آئے گی۔ تاہم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (All India Muslim Personal Law Board) نے اسے غیر آئینی اور اقلیتوں کے خلاف اقدام قرار دیا ہے اور قانون لانے کے لیے بیان بازی کو اتراکھنڈ، اتر پردیش اور مرکزی حکومتوں کی طرف سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے ہفتہ کو کہا کہ وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے ریاست میں یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code) کو نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ اسمبلی انتخابات سے پہلے سامنے آیا ہے، جن کے لیے الیکشن کمیشن نے ابھی تک تاریخوں کا اعلان نہیں کیا ہے۔

      ذرائع کے مطابق گجرات میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے ریاستی حکومت ریاست میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کرنے کا امکان ہے۔ یہ کمیٹی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کی حکومتوں نے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ یکساں سول کوڈ ہندوستان میں شہریوں کے ذاتی قوانین کی تشکیل اور نفاذ کے لیے ایک تجویز ہے جو تمام شہریوں پر ان کے مذہب، جنس اور فکری رجحان سے قطع نظر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔

      بہت سے سیاسی رہنماؤں نے یو سی سی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں برابری آئے گی۔ تاہم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (All India Muslim Personal Law Board) نے اسے غیر آئینی اور اقلیتوں کے خلاف اقدام قرار دیا ہے اور قانون لانے کے لیے بیان بازی کو اتراکھنڈ، اتر پردیش اور مرکزی حکومتوں کی طرف سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

      قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 2019 کے لوک سبھا انتخابی منشور میں بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو یو سی سی کو نافذ کرے گی۔ مرکز نے اس ماہ کے شروع میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو ملک میں یکساں سول کوڈ پر کوئی قانون بنانے یا نافذ کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتا ہے۔


      یہ بھی پڑھیں: 


      وزارت قانون و انصاف نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ پالیسی کا معاملہ عوام کے منتخب نمائندوں کو طے کرنا ہے اور اس سلسلے میں مرکز کی طرف سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی جا سکتی ہے۔ وزارت نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ یہ مقننہ کا کام ہے کہ وہ قانون سازی کرے یا نہ کرے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: