உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhagavad Gita: گجرات کے اسکولی نصاب میں بھگواد گیتا شامل کرنے کا فیصلہ، کانگریس اور آپ نے کیا استقبال

    Youtube Video

    راول نے مزید کہا کہ گجرات میں اسکول چھوڑنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور بہت سے طلبا آٹھویں جماعت تک پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتے ہیں۔ امید ہے کہ حکومت ان کے لیے بھی کچھ کرے گی۔ ہم شریمد بھگواد گیتا کو نصاب میں شامل کرنے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن یہ ہم بچپن سے سیکھ رہے ہیں۔

    • Share this:

      گجرات حکومت (Gujarat Government) نے چھٹویں تا بارہویں جماعتوں کے نصاب میں ہندوؤں کی نہایت ہی مقدس مذہبی کتاب شریمد بھگواد گیتا (Shrimad Bhagavad Gita) کو نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ قابل فخر خیال ہے اور ہماری مذہبی و تہذیبی روایات سے تعلق کا احساس پیدا کرتا ہے۔


      سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستانی ثقافت اور افکار و نظریات کو اسکول کے نصاب میں اس طرح شامل کیا جانا چاہئے جو طلبا کی مجموعی تعلیمی و فکری ترقی کے لیے سازگار ہو۔ گجرات کے وزیر تعلیم جیتو واگھانی نے کہا کہ شریمد بھگواد گیتا میں ذکر کردہ اقدار، اصول اور عقائد کو تمام مذاہب کے لوگ قبول کرتے ہیں۔ چھٹویں جماعت سے ہی شریمد بھگواد گیتا کو اس طرح متعارف کرایا جائے گا کہ طلبا اس میں دلچسپی لیں۔

      انہوں نے مزید کہا طالب علموں کو شریمد بھگواد گیتا کی اہمیت کے بارے میں بتایا جائے گا۔ بعد میں کہانیوں کو شلوکا، شلوکا گانوں، مضامین، مباحثوں، ڈراموں اور کوئزز وغیرہ کی شکل میں متعارف کرایا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے اسکول میں اس پر خصوصی پروگرام کرائے جائیں گے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ شریمد بھگواد گیتا کو کلاس 6-12 سے نصابی کتابوں میں کہانیوں اور تلاوت کی شکل میں متعارف کرایا جائے گا۔ کلاس نویں تا بارویں کے طلبا کو شریمد بھگواد گیتا کا تفصیلی تعارف پیش کیا جائے گا۔ سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ شریمد بھگواد گیتا پر اشلوکوں کی تلاوت، مضمون، پینٹنگز، مضمون، کوئز مقابلہ وغیرہ ہونا چاہیے۔ نصاب کو آڈیو ویژول کے ساتھ پرنٹ کیا جانا چاہیے۔

      مزید پڑھیں: Russia-Ukraine War: جملہ 203 نوبل انعام یافتگان نے دی یہ بڑی وارننگ! دنیا میں دوڑے گی خونی لہر

      کانگریس اور آپ کا رد عمل

      کانگریس اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) دونوں نے اسکول کے نصاب میں شریمد بھگواد گیتا کو شامل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گجرات کانگریس کے ترجمان ہیمانگ راول نے کہا کہ ہم نصاب میں شریمد بھگواد گیتا کو شامل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن گجرات حکومت کو بھی شریمد بھگواد گیتا سے ہی سیکھنے کی ضرورت ہے۔

      ان کا کہنا ہے کہ بھگواد گیتا میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے پہلے آپ کو اس صورت حال کو قبول کرنا ہوگا۔ گجرات میں تعلیم کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟ کل 33,000 اسکولوں میں سے صرف 14 اسکول اے پلس گریڈ کے اسکول ہیں۔ وہیں 18,000 اسکولوں میں اساتذہ کی پوسٹیں خالی ہیں اور 6000 اسکولس بند ہیں۔

      مزید پڑھیں: پیسوں کی تنگی کی وجہ سے جب امیتابھ بچن کو مرین ڈرائیو کے بنچ پر گزارنی پڑی تھی کئی راتیں اور پھر۔۔۔

      ’’گجرات میں اسکول ڈروپ اوٹس کی سب سے زیادہ تعداد‘‘

      راول نے مزید کہا کہ گجرات میں اسکول چھوڑنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور بہت سے طلبا آٹھویں جماعت تک پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتے ہیں۔ امید ہے کہ حکومت ان کے لیے بھی کچھ کرے گی۔ ہم شریمد بھگواد گیتا کو نصاب میں شامل کرنے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن یہ ہم بچپن سے سیکھ رہے ہیں۔

      گجرات AAP کے ترجمان یوگیش جاڈوانی نے ریاستی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت گجرات کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس سے طلبا کو فائدہ ہوگا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: