ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

گجرات میں ’لینڈ جہاد‘ کے مفروضہ پر قائم ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ 2020 پر ہائی کورٹ کی روک

گجرات سرکار نے یہ ترامیم فرقہ پرست عناصر کے اس الزام کے بعد کی ہیں کہ ریاست میں مسلمان،ہندؤوں کی کالونیوں کو خرید کراسے قبضہ کررہے ہیں، جو شرارت پسندوں کی نگاہ میں ’لینڈجہاد‘ ہے۔

  • Share this:
گجرات میں ’لینڈ جہاد‘ کے مفروضہ پر قائم ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ 2020 پر ہائی کورٹ کی روک
جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی فائل فوٹو

نئی دہلی۔ گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وکرم ناتھ نے بدھ کو دیے گئے اپنے ایک فیصلے میں ڈسبرڈ ایریا ایکٹ 2020ء کی اضافی شقوں کے عمل درآمد پر روک لگادی ہے۔ یہ اضافی شقیں،2019 میں گجرات سرکار نے منظو ر کی ہیں جو صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کی منظوری کے بعد اکتوبر 2020ء سے نافذ ہیں۔ گجرات سرکار نے یہ ترامیم فرقہ پرست عناصر کے اس الزام کے بعد کی ہیں کہ ریاست میں مسلمان،ہندؤوں کی کالونیوں کو خرید کراسے قبضہ کررہے ہیں، جو شرارت پسندوں کی نگاہ میں ’لینڈجہاد‘ ہے۔ اس سلسلے میں احمد آباد کی ورشا کالونی کو بطور مثال پیش کیا جارہا ہے۔


جدید ترمیم شدہ قانون کے مطابق محض پولرائزیشن یا ڈیموگرافیکل توازن کے بگڑنے کے خدشہ یا کلسٹرنگ علاقہ (جہاں مسلمانوں یا ہندوؤں کی عبادت گاہ ہو) میں کلکٹر کی اجازت کے بغیر ہندو۔مسلمان آپس میں خرید وفروخت نہیں کرسکتے۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء گجرات کے وکلاء نے 5/جنوری کو ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی اور استدلال کیا کہ قانون ملک کے آئینی اقدار کے خلاف ہے۔


جمعیۃ علما ء ہند کی طرف سے عدالت میں معروف سیئنر وکیل مہر جوشی نے ترجمانی کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ محض خیال کی بنیاد پر کسی مسلمان کے ذریعہ کسی کالونی میں مکان یا زمین خریدنے سے ڈیموگرافی بدل جائے گی، سرکار کو یہ حق کیسے دیا جاسکتا ہے کہ وہ اس طرح کے قانون کی توضیع کرے جس سے لوگوں کو مذہب یا ذات کی بنیاد پر الگ کیا جائے، اس سے فی الواقع سماجی مقاطعہ کی تائید ہوتی ہے اورسما ج کے ایک مخصو ص طبقہ کو ایک علاقہ میں محصور کرنے کی راہ ہموار ہو تی ہے۔


انہوں نے کہا کہ اس قانون سے ’ایک جگہ ایک مذہب‘ کا تصور فروغ دیا جارہا ہے، جو ملک کی جمہوریت، اس کی کثرت میں وحدت کے تصور کو توڑنے والا عمل ہے۔ اس لیے بلاتاخیر اس متنازع قانون کی شق (3)پر روک لگائی جائے۔ عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ محمد عیسی حکیم بھی موجود تھے۔ اگلی سماعت 3/فروری کو ہو گی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 21, 2021 11:25 PM IST