ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

گروگرام میں ان 9 مقامات کے علاوہ نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی !۔

سائبر سٹی گروگرام میں نماز کی ادائیگی کو لے کر تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ جمعہ کی نماز کو لے کر ہندتوادی تنظیموں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی پیدا نہ ہو ، اس کو لے کر پولیس اور انتظامیہ چوکس ہے۔

  • Share this:
گروگرام میں ان 9 مقامات کے علاوہ نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی !۔
فائل فوٹو

سائبر سٹی گروگرام میں نماز کی ادائیگی کو لے کر تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ جمعہ کی نماز کو لے کر ہندتوادی تنظیموں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی پیدا نہ ہو ، اس کو لے کر پولیس اور انتظامیہ چوکس ہے۔ مسلم فریق کی لڑائی لڑ رہے جاوید خان نہرویووا سنگھٹن کے صدر شہزاد خان نے بتایا کہ پولیس نے نماز کیلئے متبادل بندوبست کے طور پر نو مقامات بتائے ہیں ، جبکہ گزشتہ جمعہ تک گڑگاوں میں 115 مقامات پر نماز ہورہی تھی۔

شہزاد نے بتایا کہ ان کی پولیس کے ساتھ میٹنگ ہونے والی ہے ، تاکہ نماز کی جگہ بڑھائی جائے ۔ ایم جی روڈ جیسے کئی علاقے ایسے ہیں ، جس میں جگہ نہیں دی جارہی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں وزیر آباد ، اتل کٹاریا چوک ، سائبر پارک ، بختاور چوک اور ساوتھ سٹی علاقوں میں نماز کی ادائیگی میں خلل ڈالا گیا ۔

اس میں مبینہ طور پر وشو ہندو پریشد ، بجرنگ دل ، ہندو کرانتی دل ، گئو رکشک دل اور شیو سینا کے اراکین شامل تھے ۔ اب ان تنظیموں کی ایک سنگھرش سمیتی بھی بن گئی ہے ۔ مخالفت کرنے والے چھ لڑکوں کے خلاف کیس درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

لیکن معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب وزیر اعلی منوہر لال کھٹر بھی اس تنازع میں کود پڑے۔ انہوں نے کہا کہ مسجدوں ، عیدگاہوں اور نجی مقامات پر ہی نماز ادا کی جانی چاہئے ۔ اب انتظامیہ کے افسران بھی اسی لائن پر بات کررہے ہیں۔ ڈویزنل کمشنر ڈی سریش کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور گرین بیلٹ پر نماز نہیں ہونے دی جائے گی ۔

وزیر اعلی کے بیان کے بعد ہریانہ وقف بورڈ نے انتظامیہ کو اپنی ایسی 19 جائیدادوں کی فہرست دی تھی ، جن پر یا تو قبضہ ہے یا پھر گاوں والے وہاں نماز نہیں پڑھنے دیتے ہیں۔ بورڈ نے کہا تھا کہ ہماری زمین پر قبضہ ہے ، اس لئے لوگ کھلے میں نماز پڑھنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں انتظامیہ کو یہ قبضہ خالی کروانا چاہئے ، تب تک وہ جہاں نماز پڑھ رہے ہیں ، پڑھنے دیا جانا چاہئے۔

گڑگاوں پولیس نے نماز کیلئے آفر کئے یہ مقامات
تاو دیوی لال اسٹیڈیم
لیجر ویلی پارک ، کچا گراونڈ
میدانتا اسپتال کے پیچھے
راک لینڈ اسپتال ، مانیسر کے پیچھے ، سیکٹر پانچ
دھنچری ، نزد سرہول بارڈر کے پاس سرکاری زمین پر
ویجلینس دفتر کے سامنے سیکٹر 47۔
سیکٹر پانچ ہوڈا گراونڈ
اوبرائے ہوٹل کے پیچھے ( ایچ ایس آئی آئی ڈی سی)۔
تاو دیوی لال پارک سیکٹر 22 ۔
۔(شہزاد خان کے مطابق )۔
وقف بورڈ کی مسجد والی جگہوں پر قبضے کی فہرست


Haryana, namaz, namaz controversy in gurgaon, gurgaon, गुड़गांव नमाज विवाद, gurugram, waqf board haryana, हरियाणा वक्फ बोर्ड, कांग्रेस, बीजेपी, आफताब अहमद, CM manohar lal Khattar, mosques, Eidgah, land controversy on namaz in gurgaon, Gurgaon namaz, Hindutva groups, विश्व हिंदू परिषद, बजरंग दल, हिंदू क्रांति दल, गौरक्षक दल, crime in gurgaon, गुड़गांव, गुड़गांव, गुरुग्राम, मुख्यमंत्री मनोहर लाल खट्टर, मस्जिद, ईदगाह, गुड़गांव में नमाज पर भूमि विवाद, गुड़गांव नमाज, हिंदुत्व समूह, विश्व हिंदू परिषद, बजरंग दल, हिंदू क्रांति दल, शिवसेना, नमाज, नमाज विवाद गुड़गांव में अपराध, Land dispute over Namaz in Mosque, Gurgaon,Vishwa Hindu Parishad, VHP, Bajrang Dal, Hindu Kranti Dal, ShivSena, crime in Gurgaon
یہ ہے اصلی معاملہ
سال 2011 کی مذہبی مردم شماری کے مطابق گروگرام کی کل آباد ی 1514432 ہے ۔4.68 فیصد مسلمان ہیں ۔ مستقل طور پر 70-80 ہزار مسلمان رہتے ہیں ۔ فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والے غیر مستقل طور پر رہنے والے تقریبا 5-6 لاکھ مسلمان ہیں۔ اتنے لوگوں کیلئے صرف 8 مسجدیں اولڈ گڑگاوں اور ایک مسجد نئے گڑگاوں میں ہے۔ جبکہ زیادہ مسلم آبادی نئے گڑگاوں میں ہے، اس لئے زیادہ تر لوگ سرکاری خالی پڑی زمین پر نماز ادا کرتے ہیں۔


اوم پرکاش کی رپورٹ

First published: May 10, 2018 04:49 PM IST