ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندو سنگھرش سمیتی نے پولیس انتظامیہ اور مسلمانوں کو کیوں دیا دوماہ کا وقت؟

گروگرام ضلع انتظامیہ اور پولیس نے ہندو مسلم فریقین کو منا کر بھلے ہی جمعہ کی نماز پر تنازعہ ٹال دیا ہو، لیکن آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے۔ کیونکہ سینکت ہندوسنگھرش سمیتی نے نماز کے لئے متبادل جگہ کی تلاش کے لئے دو ماہ کا وقت دیاہے۔

  • Share this:
ہندو سنگھرش سمیتی نے پولیس انتظامیہ اور مسلمانوں کو کیوں دیا دوماہ کا وقت؟
گروگرام ضلع انتظامیہ اور پولیس نے ہندو مسلم فریقین کو منا کر بھلے ہی جمعہ کی نماز پر تنازعہ ٹال دیا ہو، لیکن آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے۔ کیونکہ سینکت ہندوسنگھرش سمیتی نے نماز کے لئے متبادل جگہ کی تلاش کے لئے دو ماہ کا وقت دیاہے۔

گروگرام ضلع انتظامیہ اور پولیس نے ہندو مسلم فریقین کو منا کر بھلے ہی جمعہ کی نماز پر تنازعہ ٹال دیا ہو، لیکن آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے۔ ہندو شدت پسند تنظیموں کے رویے سے ایسا لگتا ہے کہ تنازعہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گا۔ کیونکہ سینکت ہندو سنگھرش سمیتی نے ایک بار پھر وارننگ دی ہے۔

سینکت ہندو سنگھرش سمیتی کے سربراہ مہاویر بھاردواج نے نیوز 18 ہندی سے بات چیت میں کہا کہ سمیتی نے مختصر مدت کے لئے متبادل انتظام کی حمایت کی ہے۔ تب تک وہ اپنے انتظامات کو ٹھیک کرلیں۔ یہ مدت  ڈیڑھ سے دو ماہ کی ہوگی۔ اس کے بعد ایک بھی سرکاری، عوامی مقامات پر نماز پڑھنے سے انہیں روکنا چاہئے۔ انتظامیہ نے نماز پڑھنے کے لئے 23 مقامات نامزد کئے ہیں۔


انتظامیہ کو اس کے لئے ہم نے بولا ہوا ہے، ٹھیک نہیں کریں گے تو ہم کروالیں گے۔ یہ جمہوریت ہے، جس میں غلط چیز کو ٹھیک کروانا عوام کے ہاتھ میں ہے۔


بھاردواج کے مطابق ہم نے بولا ہے کہ ہم دو ماہ بعد ان 23 مقامات پر نماز نہیں پڑھنے دیں گے۔ انتظامیہ اپنی مجبوری بتارہی تھی، ہم سے گزارش کی تھی کہ ہم بالکل سے کھلے میں نماز نہیں روک سکتے۔ امن وامان خراب ہوسکتا ہے۔ ہندو امن چاہتا ہے، امن چین قائم رکھنا چاہتا ہے، اس لئے ہم نے انتظامیہ کی بات تسلیم کرلی۔ ہمیں یقین ہے کہ انتظامیہ طے وقت کے بعد دباو ڈالے گی۔ حکومت سست پڑے گی تو ہم اس مسئلے کو عوامی تحریک بنائیں گے۔

گروگرام میں روہنگیا مسلم آگئے ہیں۔ بنگلہ دیشی آگئے ہیں، ہم نے پولیس سے گزارش کی تھی کہ ان کی جانچ کی جائے۔ پولیس نے اس کی یقین دہانی کرائی ہے، انہیں گروگرام سے ہی نہیں ملک سے باہر نکلوائیں گے۔

اس ہفتہ وہ کہیں بھی نماز پڑھ لیں، لیکن اگلے ہفتہ سے انہیں پارکوں اور گرین بیلٹ میں نہیں گھسنے دیاجائے گا۔ یہ ہندوئوں کی سرکار نہیں ہے، بی جے پی کی حکومت  ہے، ، ہم اس پر منحصر نہیں ہیں۔ آج کے لئے اعتراض نہیں کریں گے، اگلے جمعہ کو دیکھیں گے۔ پارکوں میں نماز پڑھتے پڑھتے یہ لوگ قبضہ کرلیتے ہیں۔ سرکار سوئی رہتی ہے۔

Gurgaon-namaz1 (1)

اگر کوئی بغیر اجازت کے سڑک پر رات میں پروگرام کرتاہے تو اس پر کارروائی ہونی چاہئے۔ اجازت لے کر مسلم بھائی بھی کوئی کام کرتے ہیں تو استقبال ہے۔ عید پر وہ اجازت لے کر کہیں بھی نماز پڑھیں، ہمارا تعاون حاصل رہے گا، لیکن ایسا روزانہ کاکام نہیں بننا چاہئے۔ ہم نماز کے خلاف نہیں ہیں، لیکن غنڈہ  گردی نہیں ہونے دیں گے۔

حالانکہ مسلم فریق کی لڑائی لڑ رہے واجد خان نہرو یوا سنگٹھن کے صدر شہزاد خان نے کہاکہ ہم نے آج تک کہیں کسی زمین پر قبضہ نہیں کیا، جب تک ہمیں مسجد کے لئے جگہ نہیں مل جاتی ہے تب تک ہمیں مذہبی آزادی ہے کہ ہم سرکاری  زمین پرنماز پڑھ لیں۔

 

 

اوم پرکاش کی رپورٹ
First published: May 11, 2018 04:40 PM IST