உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شرمناک! سویگی اور زومیٹو کے چار ڈیلیوری بوائے نے مل کر لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کی ، گرفتار

    بھوپال : 50 سال کے ایک شناسا شخص نے فحش ویڈیو اور تصاویر بناکر 47 سال کی خاتون کو پہلے بلیک میل کیا اور پھر اس کی آبروریزی کی ۔ پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر معاملہ درج کرلیا ہے ور ملزم کی تلاش شروع کردی ہے ۔ ملزم شخص فی الحال فرار ہے ۔

    بھوپال : 50 سال کے ایک شناسا شخص نے فحش ویڈیو اور تصاویر بناکر 47 سال کی خاتون کو پہلے بلیک میل کیا اور پھر اس کی آبروریزی کی ۔ پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر معاملہ درج کرلیا ہے ور ملزم کی تلاش شروع کردی ہے ۔ ملزم شخص فی الحال فرار ہے ۔

    اترپردیش کے ہاتھرس کے بعد اب ہریانہ کے گروگرام میں ایک لڑکی کے ساتھ حیوانیت کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ یہاں اجتماعی آبروریزی کے بعد لڑکی کے ساتھ مار پیٹ کی گئی ۔

    • Share this:
      اترپردیش کے ہاتھرس کے بعد اب ہریانہ کے گروگرام میں ایک لڑکی کے ساتھ حیوانیت کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ اجتماعی آبروریزی کے بعد لڑکی کے ساتھ مار پیٹ کی گئی ۔ اس معاملہ میں چار لڑکوں پر 32 سالہ لڑکی اجتماعی آبروریزی کرنے کا الزم ہے ۔ مار پیٹ کی وجہ سے متاثرہ کے سر میں سنگین چوٹیں آئی ہیں ، جس کے بعد پہلے اس کو سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا اور اس کے بعد پھر دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں منتقل کردیا گیا ۔ صفدر جنگ کے بعد واپس لڑکی کو گروگرام کے میدانتا میں داخل کروایا گیا ہے ۔

      گروگرام پولیس نے واردات میں شامل چاروں ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے ۔ ملزمین کا نام پنکج ، پون ، رنجن اور گووند بتایا جارہا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ ملزم نوجوان سویگی اور زومیٹو میں ڈیلیوری بوائے کا کام کرتے ہیں ۔ شہر کے پاش علاقہ ڈی ایل ایف فیز 2 میں یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔


      دراصل گروگرام کے ڈی ایل ایف فیز 2 کے ایک پی جی میں ایک ملزم پہلے سے ہی رہتا تھا ، جہاں اس لڑکی کو لایا گیا اور اس کے بعد اس کے تین دوست وہاں پہنچے اور لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کی ۔ لڑکی نے جب اس کی مخالفت کی تو اس کے ساتھ مار پیٹ کی گئی ، جس کی وجہ سے لڑکی کے سر میں سنگین چوٹیں آئی ہیں ۔

      متاثرہ لڑکی کو تقریبا ڈھائی بجے رات میں سرکاری اسپتال میں لایا گیا اور اس کے بعد دہلی کے صفدر جنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ، لیکن بعد میں گروگرام پولیس نے لڑکی کو پھر گروگرام کے میدانتا اسپتال میں بھرتی کروایا ، جہاں اس کا علاج چل رہا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: