உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi row: گیان واپی مسجد معاملہ کو لے کر جمعیۃ علما ہند نے جاری کی اپیل، کہی یہ بڑی بات 

    Gyanvapi row: گیان واپی مسجد معاملہ کو لے کر جمعیۃ علما ہند نے جاری کی اپیل، کہی یہ بڑی بات 

    Gyanvapi row: گیان واپی مسجد معاملہ کو لے کر جمعیۃ علما ہند نے جاری کی اپیل، کہی یہ بڑی بات 

    Gyanvapi Mosque Case Latest News : جمعیۃ علما ہند کی اپیل میں علما ، مقررین و اعظین اور ٹی وی مناظرین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ٹی وی ڈیبیٹ اور مباحثوں میں شرکت سے پرہیز کریں۔ یہ قضیہ عدالت میں زیر بحث ہے، اس لیے پبلک ڈی بیٹ میں اشتعال انگیز مباحثے اور سوشل میڈیا پر تقاریر نہ کریں۔

    • Share this:
    نئی دہلی : بنارس کی گیان واپی مسجد کو لے کر تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ ہندو تنظیموں کی طرف سے لگاتار بیان بازی ہو رہی ہے اور بہت سے الزامات لگا کر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس درمیان جمعیت علمائے ہند محمود مدنی گروپ کی جانب سے اس مسئلہ کو لے کر باضابطہ اپیل جاری کی گئی ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: مسجدوں کی بے حرمتی کو مسلمان ہرگز گوارا نہیں کرسکتے، عدالتیں بھی مظلوموں کو مایوس کررہی ہیں : آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ


    جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گیان واپی مسجد کا قضیہ، فرقہ پرست عناصر کی شرارت کی وجہ سے، ان دنوں عوامی اور عدالتی سطحوں پر زیر بحث ہے۔ کچھ شرپسند عناصراور متعصب میڈیا، جذباتیت سے نتھی کرکے دو قوموں کے درمیان فتنہ پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے حالات میں جمعیۃ علماء ہند سبھی اہل وطن خاص طور پر مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ گیان واپی مسجد وغیرہ کے مسئلے کو سڑک پر نہ لایا جائے اورہر طرح کے عوامی مظاہروں سے گریز کیا جائے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جامع مسجد کے نیچے ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتی، سوامی چکرپانی نے پی ایم کو خط لکھ کر کیا مطالبہ


    جمعیۃ نے مزید کہا کہ اس معاملہ میں مسجد انتظامیہ کمیٹی فریق کی حیثیت سے مختلف عدالتوں میں مقدمہ لڑرہی ہے، ان سے امید ہے کہ وہ مضبوطی سے یہ مقدمہ اخیر تک لڑیں گے۔ ملک کی دوسری تنظیموں سے اپیل ہے کہ وہ براہ راست اس میں مداخلت نہ کریں۔ جو بھی مدد کرنی ہے وہ بواسطہ انتظامیہ کمیٹی کی جائے۔

    ساتھ ہی ساتھ علما ، مقررین و اعظین اور ٹی وی مناظرین سے اپیل گئی ہے کہ وہ ٹی وی ڈیبیٹ اور مباحثوں میں شرکت سے پرہیز کریں۔ یہ قضیہ عدالت میں زیر بحث ہے، اس لیے پبلک ڈی بیٹ میں اشتعال انگیز مباحثے اور سوشل میڈیا پر تقاریر نہ کریں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: