உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ پہنچا GyanVapi Mosque Case، سروے روکنے کے مطالبے پر CJI بولے، بغیر کاغذات دیکھے کیسے دیں حکم؟

    تصویر: سپریم کورٹ

    تصویر: سپریم کورٹ

    Gyanvapi–Shringar Gauri Temple Complex Video Survey Controversy: انہوں نے کہا کہ انہیں اس سارے معاملے کا علم نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کاغذات نہیں دیکھے ہیں۔ مجھے کچھ نہیں معلوم، میں حکم کیسے پاس کروں؟ پہلے میں پیپر دیکھوں گا، پڑھوں گا اور پھر آرڈر دوں گا۔

    • Share this:
      وارانسی/دہلی۔ Gyanvapi–Shringar Gauri Temple Complex Video Survey Controversy: گیانواپی مسجد شرینگر گوری مندر معاملے میں وارانسی کی سول عدالت کے ذریعہ سروے کے حکم کا معاملہ سپریم کورٹ supreme court of india میں پہنچ گیا ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے انجمن انصافیہ کی جانب سے ایک عرضی دائر کی ہے جس میں وارانسی کی عدالت کے حکم پر روک لگانے اور جمود کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی درخواست کی گئی ہے۔ اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے وارانسی عدالت کے حکم پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے کاغذات دیکھوں گا پھر حکم جاری کروں گا۔

      ایڈوکیٹ احمدی نے عرضی میں کہا کہ وارانسی Varanasi میں ایسی جائیداد کے سروے کا عدالت نے حکم دیا ہے جو عبادت گاہوں کے قانون کے تحت Places of Worship Act محفوظ ہے۔ اب عدالت نے کمشنر کے ذریعے سروے کا حکم دیا ہے۔ احمدی نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ جمود کو برقرار رکھنے کا حکم دیا جائے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس سارے معاملے کا علم نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کاغذات نہیں دیکھے ہیں۔ مجھے کچھ نہیں معلوم، میں حکم کیسے پاس کروں؟ پہلے میں پیپر دیکھوں گا، پڑھوں گا اور پھر آرڈر دوں گا۔



      مزید پڑھئے: Hajj 2022 میں عازمین کو 20Kg کے دو سوٹ کیس اور 7Kg کے کیری بیگ کی اجازت

      جانکاری کے مطابق سپریم کورٹ اس معاملے کی اگلے ہفتے سماعت کر سکتی ہے۔ فی الحال آج ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے وارانسی سول کورٹ کے حکم پر روک نہیں لگائی ہے۔ وارانسی کی سول عدالت نے گیانواپی مسجد کے چپے۔چپے کی ویڈیو گرافی کرنے اور 17 مئی کو عدالت کے سامنے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم مسلم فریق حکم کے اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: