ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرکزی حج کمیٹی نے حج 2015 کے دوران اپنی کارکردگی کی تفصیلات پیش کیں

نئی دہلی:مرکزی حج کمیٹی نے حج۔2015 کے آغاز سے لے کر اب تک کی اپنی کارکردگی، درپیش مشکلات اور حاجیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات کی تٖفصیلات پیش کیں۔

  • News18
  • Last Updated: Oct 13, 2015 07:39 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مرکزی حج کمیٹی نے حج 2015 کے دوران اپنی کارکردگی کی تفصیلات پیش کیں
نئی دہلی:مرکزی حج کمیٹی نے حج۔2015 کے آغاز سے لے کر اب تک کی اپنی کارکردگی، درپیش مشکلات اور حاجیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات کی تٖفصیلات پیش کیں۔

نئی دہلی:مرکزی حج کمیٹی نے حج۔2015 کے آغاز سے لے کر اب تک کی اپنی کارکردگی، درپیش مشکلات اور حاجیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات کی تٖفصیلات پیش کیں۔ سینٹرل حج کمیٹی کے چیئرمین قیصر شمیم نے بتایا کہ حج 2015 کے لئے ملک بھر سے سفر حج پر جانے کے خواہشمند تقریبا تین لاکھ 83 افراد کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ جن میں سے ہندوستان کو حاصل کوٹہ کے مطابق ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو منتخب کیا گیا۔


انہوں نے بتایا کہ مغربی بنگال، آسام، بہار اور تریپورہ کے لئے آلاٹ شدہ کوٹے سے کم درخواستیں موصول ہوئیں اور ان ریاستو ں کی باقی ماندہ سیٹوں کو دیگر ریاستوں میں تقسیم کیا گیا۔ ملک کی سات ریاستوں کیرالہ، گجرات، مہاراشٹر، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، دہلی اور ہریانہ میں درخواست دہندگان کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ ان ریاستوں میں سپریم کورٹ کی رہنما ہدایات کے مطابق چوتھی بار حج کے لئے فارم بھرنے والے درخواست دہندگان کے ناموں کا ہی انتخابات کیا جاسکا۔ جبکہ بعض ریاستوں میں ’’تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے چوتھی بار اپلائی کرنے والوں کے درمیان بھی قرعہ اندازی کے ذریعے انتخاب کیا گیا۔‘‘


مسٹر قیصر شمیم نے بتایا کہ حج 2015 کے سفر پر جانے والوں میں دس فیصد کی عمر 70 برس سے زائد تھی اور تقریباً 38 فیصد کی تعداد 60 برس سے زائد تھی۔ اس کے علاوہ سفر حج پر جانے والی سب سے زیادہ عمر رسیدہ محترمہ بسم اللہ بی جان خان تھیں جن کی عمر 109 برس تھی اور جو اترپردیش کی ہیں جبکہ سب سے زیادہ عمر رسیدہ بھی اترپردیش کے ہی تھے جن کا نام حامد اور عمر تقریباً 100 ہے۔


انہوں نے بتایا کہ عازمین کو سہولت فراہم کرانے کی غرض سے اس سال انہیں آن لائن فارم بھرنے کی سہولت فراہم کرائی گئی جس کا تقریباً 15 فیصد عازمین نے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ حج کے لئے فیس وغیرہ کی رقم بھرنے کے لئے اس سال بینکوں کی مجموعی طور پر 24 ہزار برانچوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔


مسٹر قیصر شمیم نے بتایا کہ حاجیوں کا سامان کھونے سے بچانے کی غرض سے حج کمیٹی نے ان کے لئے قیمتاً خصوصی سوٹ کیس کا انتظام کیا۔انہوں نے بتایا کہ حاجیوں کے لئے حرمین شریفین کے قریب قیام کا انتظام کیا گیا اور جن عازمین کی قیام گاہیں کچھ فاصلے پر عزیزیہ میں تھی ان کے لئے ٹرانسپورٹیشن کا معقول انتظام کیا گیا تھا۔


مسٹر قیصر شمیم نے حج کمیٹی آف انڈیا، وزارت خارجہ، ریاستی حج کمیٹیوں، ہندوستانی قونصل جنرل (جدہ) کے درمیان بہترین تال میل کے ذریعہ عازمین کی روانگی اور اب تک کی حاجیوں کی واپسی کے عمل کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ حج کے انتظام و انصرام کو بہتر اور یقینی بنانے کے لئے حج کمیٹی کا ایک سہ رکنی وفد بھی سفر حج پر گیا تھا، جس کے اراکین میں خود چیئرمین، قیصر شمیم کے علاوہ دو ممبران شاکر حسین انصاری اور مسٹر عبدالحق شامل تھے۔


دوران حج دو حادثوں پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر قیصر شمیم نے بتایا کہ 11 ستمبر کو ہونے والے کرین حادثہ میں 13 ہندوستانی شہید ہوئے جبکہ 24 ستمبر 2015 کو منیٰ سانحہ میں جاں بحق ہونے والے ہندوستانی حاجیوں کی اب تک کی مجموعی تعداد 114 تک پہنچ گئی ہے جبکہ دس ہندوستانی حاجی اب بھی لاپتہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سفر حج کے دوران پیش آنے والے دو حادثوں میں قونصل جنرل (جدہ) اور مرکزی حج کمیٹی وزارت خارجہ اور حکومت ہند نے اہم رول ادا کیا۔


انہوں نے کہا کہ وزیر وزیر مملکت برائے خارجہ وی کے سنگھ نے حکومت ہند کی ایما پر خود سعودی عرب جاکر سعودی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کرکے ہندوستانی حاجیوں کے احوال و کوائف کی تفصیلات معلوم کیں۔خیال رہے کہ اب تک تقریباً 50 ہزار ہندوستانی حاجی سفر حج مکمل کرکے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔

First published: Oct 13, 2015 07:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading