ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

حج 2019 کیلئے ریاستوں کا کوٹہ جاری ، اترپردیش سے سفر حج پر جانے والوں  کیلئے خوشخبری

اترپردیش سےآنے والی درخواستوں کی تعداد 34397 ہے جبکہ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے آبادی کو دیکھتے ہوئے 27682 سیٹیں الاٹ کی گئی ہیں۔

  • Share this:
حج 2019 کیلئے ریاستوں کا کوٹہ جاری ، اترپردیش سے سفر حج پر جانے والوں  کیلئے خوشخبری
فائل فوٹو

شاید ہی ایسا کوئی مسلمان ہوگا جس کے دل میں حج کی سعادت حاصل کرنے کی حسرت نہ ہو ، یہی وہے کہ سفر حج کیلئے درخواست دہندگان کی نگاہیں قرعہ اندازی پر مرکوز رہتی ہیں۔ قرعہ اندازی میں نام آنے کے بعد ہی درخواست دہندگان کو سفر مقدس پر جانے کا موقع ملتا ہے۔

جمعہ کو حج کمیٹی آف انڈیا نے حج کوٹہ جاری کردیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مرتبہ یوپی سے حج کیلئے فارم بھرنے والے سبھی عازمین کو سفر حج پر جانے کا موقع مل سکتا ہے ۔ قرعہ اندازی کے بغیر بھی سبھی درخواست دہندگان کو حج کے سفر پر بھیجا جاسکتا ہے۔

حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے جاری اعداد و شمار پر نگاہ ڈالیں تو جنرل کوٹہ کے تحت ایک لاکھ 23 ہزار 900 لوگ سفر حج پر جائیں گے جبکہ ملک بھر سے دو لاکھ 67 ہزار 261 لوگوں نے سفرحج کیلئے فارم بھرے ہیں ۔ اترپردیش سے 34397 لوگوں نے فارم بھرا ہے جبکہ کمیٹی کے ذریعہ اترپردیش کو 27682 سیٹیں الاٹ کی گئی ہیں۔

اسی طرح سے راجستھان میں درخواست دہندگان کی تعداد 10750 ہے اور 4471 سیٹیں الاٹ کی گئی ہیں ۔ ہریانہ میں 3145 فارم بھرے گئے ہیں اور 1281 سیٹیں الاٹ کی گئی ہیں۔ اترپردیش کے کوآرڈینیٹر حاجی یعقوب کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ سیٹ کو دیکھتے ہوئے درخواست فارم کافی کم آئے ہیں۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کو دیکھتے ہوئے سیٹ کا کوٹہ جاری کیا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ کوٹہ اترپردیش کو ملتا ہے۔


circular_2019_08
اترپردیش سےآنے والی درخواستوں کی تعداد 34397 ہے جبکہ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے آبادی کو دیکھتے ہوئے 27682 سیٹیں الاٹ کی گئی ہیں۔ ایسے میں سیٹ اور درخواست فارم کا جو فرق ہے وہ 6715 ہے۔ کوآرڈینیٹر حاجی یعقوب کا کہنا ہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے پاس 17418 سیٹیں ایسی ہیں ، جو بہار ، آسام ، آندھرا پردیش اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں سے بچ رہی ہیں ۔ ایسے میں آبادی کو دیکھتے ہوئے یوپی کو بچی ہوئی زیادہ سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں اور سبھی لوگ یوپی سے حج کے سفر پر جاسکتے ہیں۔ اترپردیش میں قرعہ اندازی کا انعقاد نہ کئے جانے کیلئے ہم نے متعلقہ افراد کو لکھا بھی ہے۔

ناصر حسین کی رپورٹ 
First published: Jan 05, 2019 04:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading