ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

صرف ایک ہی مسلک میں ہے مسلم خواتین کو محرم کے بغیر سفر حج کی اجازت

دلی میں مختلف ریاستوں کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران مختار عباس نقوی نے کہا کہ اب تک تقریبا 2 ہزارخواتین نے محرم کے بغیرحج پرجانے کی درخواستیں دی ہیں اوران کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے

  • Share this:
صرف ایک ہی مسلک میں ہے مسلم خواتین کو محرم کے بغیر سفر حج کی اجازت
علامتی تصویر

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امورمختارعباس نقوی نے ایک بارپھرآئندہ سال یعنی 2019  میں ہندوستان سے محرم کے بغیر بڑی تعداد میں خواتین کے سفرحج پر جانے کی امید ظاہر کی ہے۔ گزشتہ اتوارکو دہلی میں مختلف ریاستوں کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ اب تک تقریبا 2 ہزارخواتین نے محرم کے بغیرحج پرجانے کی درخواستیں دی ہیں اوران کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں پہلی بار مرکزی حکومت نے مسلم خواتین کوبغیرمحرم کے سفرحج پر جانے سے متعلق پابندی ختم کر دی تھی جس کی وجہ سے 2018 میں تقریبا تیرہ سومسلم خواتین محرم کے بغیرسفرحج پر گئی تھیں۔ پہلی بارخاتون خادم الحجاج کی خدمات لی گئی تھیں، تاکہ وہ خواتین عازمین حج کی مدد کرسکیں۔


ہندوستانی حکومت نے ساتھ ہی خواتین کومحرم کے بغیرسفرحج کی چھوٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سفرحج کیلئے درخواست داخل کرتے وقت خاتون کواپنے مسلک کا اجازتی خط بھی لگانا ہوگا۔ اس خط میں اس بات کا تذکرہ کیا جائے کہ ان کے مسلک میں خاتون کو محرم کے بغیر سفرحج کی اجازت ہے یا نہیں۔


خیال رہے کہ اس سے پہلے حکومت بہارکے سابق چیف سکریٹری افضل امان اللہ کی قیادت میں ایک جائزہ کمیٹی نے وزرات اقلیتی امورکونئی حج پالیسی سے متعلق جوتجاویزپیش کی تھیں، اس میں45 سال یا اس سے زائد عمرکی خواتین کومحرم کے بغیر بھی فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل تھی۔ کمیٹی میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک رکن بھی شامل تھے۔ حالانکہ اس تجویز پرعمل درآمد بھی ہوا اور 2018 میں تقریبا تیرہ سو مسلم خواتین نے محرم کے بغیر حج کا فریضہ انجام بھی دیا۔ تاہم، اس تجویز کے پیش ہونے کے بعد سے ہی مسلم حلقوں میں شدید بے چینی بڑھ گئی تھی اورمختلف مسالک کے علما نے اس پراپنا شدید ردعمل ظاہرکیا تھا۔


دلی کی جامع مسجد کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے 45 سال سے زائد عمرکی خواتین کو بغیرمحرم کے فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت دینے سے متعلق حج پالیسی جائزہ کمیٹی کی سفارش پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ کیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے کچھ ممبران کومسلمانوں کے مذہبی امورمیں غلط فیصلے لینے کی چھوٹ دی ہوئی ہے اور اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اورملک کے مقتدرعلمائے کرام کواپنا شرعی موقف واضح کرنا چاہئے۔ شاہی امام نے کہا تھا کہ اسلام میں کسی خاتون کا محرم کے بغیر سفرکرنا ممنوع ہے۔ لیکن حج جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے شریعت کی اس شرط کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ جو ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی امورکی حفاظت کی ذمہ داری کا دعویٰ کرتا ہے، اس سلسلے میں بورڈ کو اپنی رائے مسلمانوں کے سامنے رکھنی چاہیے اور یہ بتانا چاہیے کہ کیا اب شریعت کی یہ ایک اہم شرط ختم کر دی گئی ہے؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو


وہیں، ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے بھی حج پرزیادہ عمرکی خواتین کے بلا محرم جانے کی سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے اپیل کی تھی کہ اسلامی احکام ومسائل کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اورعلمائے اسلام نیز بڑی بڑی مسلم تنظیموں کے ذمہ داران ہلکی باتیں نہ کریں۔ حدیث کی روشنی میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی عورت کا بلا محرم کے سفرپرنکلنا جائزنہیں ہے اورنہ ہی کسی اجنبی کے ساتھ خلوت میں جانا جائز ہے۔

حرم مکی کے مفتی پروفیسر ڈاکٹر وصی اللہ عباس نے بھی محرم کے بغیرخاتون کے سفرحج کو ناجائز قراردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عورت خواہ کتنی ہی بوڑھی کیوں نہ ہوجائے، سفرحج کے لیے محرم لازمی شرط ہے۔ جمعیت العربیہ الہند کی دعوت پرگزشتہ سال مہاراشٹر کے اورنگ آباد کے دورے پر آئے مفتی حرم نے میڈیا سے بات چیت میں یہ بیان دیا تھا۔

خیال رہے کہ ایران، پاکستان اورانڈونیشیا سمیت کئی مسلم ملکوں میں خواتین کے بغیرمحرم حج کرنے کی اجازت ہے۔ اسی ضمن میں پاکستان کے لاہورہائی کورٹ نے بھی 2016 میں وزارت مذہبی امورکوشیعہ خواتین کوبغیرمحرم کے حج کرنے کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا۔

اسی کے مدنظر، ہندوستانی حکومت کی اقلیتی امورکی وزارت نے بھی حج پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ 45 سال سے زیادہ عمرکی خواتین چارکے گروپ میں کسی مرد محرم کے بغیرسفرحج پرجا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گيا کہ خواتین کا تعلق جس مکتبہ فکرسے ہو، اس میں اس کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن پینتالیس برس سے کم عمرکی خواتین کو اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس معاملہ میں مرکزی وزیرمختارعباس نقوی نے کہا تھا کہ دیگر ممالک کی خواتین بھی اس طرح حج کر رہی ہیں اور سعودی عرب حکومت نے خود اس کی پہل کی ہے۔

غور طلب ہے کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے چارمسالک حنفی، شافعی، حنبلی اورمالکی کو مسلمان مانتے ہیں، لیکن اس میں سے صرف شافعی مسلک میں ہی خواتین کو محرم کے بغیر سفرحج کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر تین مسالک میں محرم کے بغیرسفرحج ممنوع ہے۔ شافعی مسلک کے ماننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تعداد کیرالہ، کونکڑاورمغربی بنگال میں ہے اوریہی وجہ ہے کہ محرم کے بغیرحج پر جانے کی خواہش رکھنے والی سب سے زیادہ خواتین 1124 کی درخواستیں کیرالہ سے آئی تھیں ۔
First published: Dec 10, 2018 03:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading