اپنا ضلع منتخب کریں۔

    دہلی میں علاج کے دوران ہنمن تھپپا کا انتقال، صبح 11:45 بجے لی آخری سانس

    نئی دہلی۔ سیاچن میں بھاری برف باری میں چھ دن تک دبے رہنے کے بعد زندہ نکالے گئے لانس نائک هنمن تھپپا كوپڑ کا آج یہاں فوج کے آر آراہسپتال میں انتقال ہو گیا۔

    نئی دہلی۔ سیاچن میں بھاری برف باری میں چھ دن تک دبے رہنے کے بعد زندہ نکالے گئے لانس نائک هنمن تھپپا كوپڑ کا آج یہاں فوج کے آر آراہسپتال میں انتقال ہو گیا۔

    نئی دہلی۔ سیاچن میں بھاری برف باری میں چھ دن تک دبے رہنے کے بعد زندہ نکالے گئے لانس نائک هنمن تھپپا كوپڑ کا آج یہاں فوج کے آر آراہسپتال میں انتقال ہو گیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ سیاچن میں بھاری برف باری میں چھ دن تک دبے رہنے کے بعد زندہ نکالے گئے لانس نائک هنمن تھپپا كوپڑ کا آج یہاں فوج کے آر آراہسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم  گزشتہ تین دن سے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پائے۔ انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ لانس نائک نے تقریبا پونے 12 بجے آخری سانس لی۔ ان کے انتقال سے پورے ملک کو صدمہ پہنچا ہے۔


      ملک کی شان هنمن تھپپا گذشتہ تین فروری کوبرف باری کی زد میں آنے کے بعد سے اپنے 9 دیگر ساتھیوں کے ساتھ تقریبا 35 فٹ برف میں دب گئے تھے۔ انہیں8 فروری کو برف سے نکالا گیا تھا، اس وقت ان کی حالت کافی خراب تھی۔ ان کے دیگر 9 ساتھیوں کی لاشیں ملی تھیں۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد 9 فروری كو دہلی کے آر آر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ لانس نائک هنمن تھپپا کی حالت مسلسل نازک بنی ہوئی تھی اور وہ کومہ میں تھے۔ کل ان کے دماغ میں آکسیجن کی کمی کی علامات نظر آئی تھیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل انہیں بچانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی اور ان کی صحت کے لئے ملک بھر میں دعائیں کی جا رہی تھیں۔


      ان کے علاج میں آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس)کے ڈاکٹروں سے بھی مشورہ لیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے کل بتایا تھا کہ ان کے دونوں پھیپھڑوں میں نمونیا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے جسم کے کئی اعضا کام نہیں کر رہے تھے۔ لانس نائک هنمن تھپپا کو آر آر اسپتال میں داخل کرائے جانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع منوہر پرریکر، فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ اور دوسرے متعدد معزز افراد ان کی خیریت دریافت کرنے وہاں گئے تھے۔ ان کی اہلیہ اور خاندان کے دوسرے ارکان بھی یہاں لائے گئے تھے۔ ان کی جلد صحتیابی کی امید کے ساتھ ملک بھر میں دعائیں اور پوجا کی جا رہی تھیں۔


      صدر پرنب مکھرجی اور کانگریس صدر سونیا گاندھی سمیت دیگر معزز شخصیات نے بھی ان کے صحت مند ہونے کی خواہش کی تھی۔

      First published: