உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اگر وزیر اعظم دفتر نے اس خط پر کی ہوتی کارروائی ، تو 2016 میں ہی پی این بی گھوٹالہ کا ہوجاتا انکشاف

     پنجاب نیشنل بینک گھوٹالہ کا انکشاف ایک سال پہلے ہی ہوسکتا تھا ، اگر متعلقہ محکموں اور افسران نے وہسلر بلوور کے الرٹ پر کارروائی کی ہوتی ۔

    پنجاب نیشنل بینک گھوٹالہ کا انکشاف ایک سال پہلے ہی ہوسکتا تھا ، اگر متعلقہ محکموں اور افسران نے وہسلر بلوور کے الرٹ پر کارروائی کی ہوتی ۔

    پنجاب نیشنل بینک گھوٹالہ کا انکشاف ایک سال پہلے ہی ہوسکتا تھا ، اگر متعلقہ محکموں اور افسران نے وہسلر بلوور کے الرٹ پر کارروائی کی ہوتی ۔

    • Share this:

      نئی دہلی : پنجاب نیشنل بینک گھوٹالہ کا انکشاف ایک سال پہلے ہی ہوسکتا تھا ، اگر متعلقہ محکموں اور افسران نے وہسلر بلوور کے الرٹ پر کارروائی کی ہوتی ۔ یہ وہسلر بلوور تھے بنگلورو کے ہری پرساد ، جن کے پاس گیتانجلی کی فرنچائزی ہے۔ پرساد نے اس معاملہ میں وزیر اعظم کے دفتر ( پی ایم او ) کو ایک خط لکھا تھا کہ یہ معاملہ ایک بڑے گھوٹالہ کی شکل اختیار کرسکتا ہے ، مگر اس کے باوجود بروقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
      چھبیس جولائی 2016 کو لکھے گئے اس خط میں پرساد نے بتایا تھا کہ بیلنس شیٹ سے ہی سبھی تفصیلات سامنے آ جارہی ہیں ۔ اس خط میں ایک بڑے مالی گھوٹالہ کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا ۔ اس میں ممبئی کے ایک شخص /کمپنی کے ذریعہ ٹیکس دہندگان کے ہزاروں کروڑ روپے کے ممکنہ نقصان کی بات کہی گئی تھی ۔ خط میں فراڈ کرنے والے جس شخص کا نام لیا گیا تھا ، وہ گیتانجلی جیمس کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر میہل چوکسی ہی تھے۔



      پرساد نے بتایا کہ 29 جولائی 2016 کی تاریخ میں اس خط کو آر او سی مہاراشٹر کو فارورڈ کردیا گیا ، جس کی ایک کاپی مجھے بھی بھیجی گئی ، لیکن اس معاملہ میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ پرساد نے بتایا کہ اگلے دو تین مہینوں میں ان کے پاس آر او سی مہاراشٹر سے ایک لیٹر آیا ، جس میں بتایا گیا کہ اس کیس کو بند کردیا گیا ہے۔



      پرساد نے مزید بتایا کہ سسٹم پر اپنا اعتماد کھودینے کی وجہ سے میں نے اس کے بعد ممکنہ گھوٹالہ کے بارے میں افسروں کو خبردار کرنا بند کردیا ۔ حالانکہ انہوں نے ذاتی طور پر چوکسی کے خلاف لڑائی بند نہیں کی ۔ پرساد کا دعوی ہے کہ چوکسی نے 13 کروڑ روپے کے فراڈ کیس میں انہیں بھی دھوکہ دیا ہے ۔



      بنگلورو میں پرساد نے گیتانجلی کی فرنچائزی لے رکھی ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ چوکسی نے وعدہ کے مطابق انہیں ادائیگی نہیں کی ۔ یہ ادائیگی 5.5 لاکھ روپے فی ماہ کرایہ اور پرساد کے 10 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے بدلے میں 10 لاکھ روپے فی ماہ کی رقم دینے کے وعدہ سے جڑا ہوا ہے۔ پرساد نے اس سلسلہ میں بنگلورو میں کیس بھی درج کروارکھا ہے اور اب یہ سی بی آئی کے پاس بھی پہنچ گیا ہے۔



      اب جبکہ پی ایم او کو تحریر کیا گیا پرساد کا خط عام ہوچکا ہے اور 11000 کروڑ روپے سے زیادہ کے اس گھوٹالہ پر ہنگامہ برپاہے ، ایسے میں پرساد کو جان کا بھی خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔
      منی کنٹرول کیلئے تسمئی لہا رائے

      First published: