உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جاٹ ریزرویشن : پولیس فائرنگ میں ایک کی موت ، روہتک اور بھوانی میں کرفیو نافذ ، 9 شہروں میں فوج طلب

    چندی گڑھ: ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کیلئے جاری تحریک اب پرتشدد ہوگئی هے۔ ریزرویشن کی آگ روہتک سے ہوتے ہوئے دیگر شہروں میں پھیلنے لگی ہے۔ وزیر اعلی کھٹر کا شہر کرنال بھی اس کی زد میں آ گیا ہے۔ کھٹر نے کل جماعتی میٹنگ کے بعد امن کی اپیل کی تھی، لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے۔

    چندی گڑھ: ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کیلئے جاری تحریک اب پرتشدد ہوگئی هے۔ ریزرویشن کی آگ روہتک سے ہوتے ہوئے دیگر شہروں میں پھیلنے لگی ہے۔ وزیر اعلی کھٹر کا شہر کرنال بھی اس کی زد میں آ گیا ہے۔ کھٹر نے کل جماعتی میٹنگ کے بعد امن کی اپیل کی تھی، لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے۔

    چندی گڑھ: ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کیلئے جاری تحریک اب پرتشدد ہوگئی هے۔ ریزرویشن کی آگ روہتک سے ہوتے ہوئے دیگر شہروں میں پھیلنے لگی ہے۔ وزیر اعلی کھٹر کا شہر کرنال بھی اس کی زد میں آ گیا ہے۔ کھٹر نے کل جماعتی میٹنگ کے بعد امن کی اپیل کی تھی، لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      چندی گڑھ : ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کیلئے جاری تحریک اب پرتشدد ہوگئی ہے۔ ریزرویشن کی آگ روہتک سے ہوتے ہوئے دیگر شہروں میں پھیلنے لگی ہے۔ وزیر اعلی کھٹر کا شہر کرنال بھی اس کی زد میں آ گیا ہے۔ کھٹر نے کل جماعتی میٹنگ کے بعد امن کی اپیل کی تھی، لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے۔


      خبروں کے مطابق روہتک میں پولیس کی فائرنگ میں ایک شخس کی موت کے بعد ہنگامہ مزید بڑھ گیا ۔ روہتک میں جاٹ مظاہرین نے   6 گاڑیوں میں آگ لگادی ۔ علاوہ ازیں  پولیس کی  بھی ایک گاڑی کو نذر آتش کردیا ۔  روڈویز کی 3 بسوں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی ۔ مظاہرین نے 50 پولیس اہلکاروں کوتقریبا 1 گھنٹے تک یرغمال بناکر رکھا ، جو بعد میں مشکل سے ہاتھ پاوں جوڑ کر بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوپائے۔ جاٹ مظاہرین نے ایس پی روہتک کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے روہتک اور بھوانی میں کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ ریاست کے 9 شہروں میں فوج طلب کرلی گئی ہے۔


      اس سے پہلے روہتک میں ہی پرتشدد مظاہرے کے دوران کم از کم 15 افراد زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے جام کھلوانے کیلئے پہنچے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور پولیس کی بسوں کے شیشے توڑدئے۔ جبکہ پولیس نے بھی طالب علموں کی دوڑا دوڑا کر پٹائی کی ۔ تاہم پولیس کے جاتے ہی لوگوں نے ایک مرتبہ پھر اپنا مظاہرہ شروع کر دیا اور جام لگا دیا۔ اس کی وجہ سے جھجھر اور سونی پت میں اضافی پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔


      وزیر اعلی منوہر لال کھٹر کے شہر کرنال میں بھی جاٹ سڑکوں پر ہیں۔ کرنال کیتھل روڈ پر جاٹوں نے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے جام لگایا، جس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موقع پر پہنچے۔جاٹ مظاہرین بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی، جام نہیں کھولا جائے گا۔ سانپلا میں بھی جاٹ ریزرویشنکا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ ٹول پلازہ پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطار لگ گئی ہے۔


      ادھر روہتک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر کر دی گئی ہے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے شہر کی سڑکوں کو ریزرویشنکا مطالبہ کرنے والے مظاہرین سے آزاد کرانے کے لئے فلیگ مارچ کیا۔ روہتک میں عدالت کے احاطے کے باہر کاروباریوں اور وکلاء میں جھڑپ ہو گئی ، جس میں کئی گاڑیوں کونقصان بھی پہنچا یا گیا۔


      ضلع عدالت کے وکیل عدالت کے احاطے کے باہر او بی سی زمرے میں جاٹ برادری کو شامل نہیں کئے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ اسی وقت شہر کے تاجر جلوس کی شکل میں ڈپٹی کمشنر کو میمورنڈم سونپنے کے لئے جا رہے تھے کہ اچانک دونوں میں کہا سنی ہو گئی اور کشیدگی بڑھ گئی۔


      پولیس اور نیم فوجی فورسز نے حالات پر قابو پانے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس دوران نامعلوم افراد نے کچھ موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کردیا اور پتھراؤ کیا۔ روہتک شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے۔


      ادھر چندی گڑھ میں وزیر اعلی نے کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کی ، جس میں کل جماعتی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میٹنگ میں وزیر اعلی نے جاٹ آندولن سے پیدا صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔


      کابینہ کی میٹنگ کے بعد وزیر زراعت اوم پرکاش دھنكھڑ نے بتایا کہ انتظامیہ اور پولیس اہلکار کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں اور حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لئے تمام متبادل کھلے رکھے ہیں۔

      First published: