உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہریانہ کی کھٹر حکومت نے طلبہ سے پوچھا : کیا ماں باپ کا پیشہ ہے گندا

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    ہریانہ حکومت کے محکمہ تعلیم نے پرائیویٹ اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ سے ان کے کنبہ ، ذات ، مذہب ، آدھار کارڈ ، بینک اکاونٹ کے ساتھ ساتھ یہ سوال کرکے سبھی کو حیران کردیا ہے کہ کیا ان کے ماں باپ کسی گندا کاروبار میں تو نہیں ہیں۔

    • Share this:
      گروگرام : ہریانہ حکومت کے محکمہ تعلیم نے پرائیویٹ اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ سے ان کے کنبہ ، ذات ، مذہب ، آدھار کارڈ ، بینک اکاونٹ کے ساتھ ساتھ یہ سوال کرکے سبھی کو حیران کردیا ہے کہ کیا ان کے ماں باپ کسی گندا کاروبار میں تو نہیں ہیں۔ گروگرام اور پنچ کولہ سمیت پوری ریاست میں اسکولوں نے دو صفحات پر مشتمل جو فارم طلبہ کو دیا ہے ، اس میں یہ سبھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
      ریاستی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ اس فارم کو کس نے جاری کیا ہے ۔جبکہ فارم میں ہریانہ حکومت کا لوگو لگاہوا ہے۔ادھر پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کے مطابق یہ معلومات ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے طلب کی گئی ہیں نہ کہ اس کی جانب سے ۔ ایک اور اسکول کا کہنا ہے کہ یہ فارم ہریانہ حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے آیا ہے۔
      دریں اثنا اس معاملہ پر کانگریس نے ہریانہ حکومت کی تنقید کرتے ہوئے معافی مانگنے اور متعلقہ فارم کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے نامہ نگاروں کے سوالات پر کہا کہ ہریانہ کے اسکولوں میں طلبا کو ایک فارم بھرنے کے لئے کہا گیا ہے جس میں جو ذاتی معلومات مانگی گئی ہیں ان کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جاسوسی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ڈی این اے میں شامل ہوگئی ہے۔ کھٹر حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ اسے اتنی معلومات کیوں چاہئیں۔ساتھ ہی ساتھ سرجے والا نے کہاکہ ہریانہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ وہ کس پیشہ کو گندا مانتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کھٹر نے پھر وہی کیا۔ طلبا کو ’اچھوت‘ اور ان کے والدے کے پیشہ سے ’گندا‘ ٹھہرایا ہے۔



      نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔
      First published: