ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہریانہ : ہجومی تشدد کے شکار لقمان کا مقدمہ جمعیت علما ہند نے کیا لڑنے کا اعلان

جمعیۃعلما ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر اس کے علاج ومعالجہ اور مقدمات کی مکمل پیروی کی ذمہ داری جمعیۃ علما گڑگاوں (گروگرام) نے لی ہے ۔

  • Share this:
ہریانہ : ہجومی تشدد کے شکار لقمان کا مقدمہ جمعیت علما ہند نے کیا لڑنے کا اعلان
ہریانہ : ہجومی تشدد کے شکار لقمان کا مقدمہ جمعیت علما ہند نے کیا لڑنے کا اعلان

عیدالاضحی کے موقع پر گروگرام میں ہجومی تشدد کے شکار ہو ئے محمد لقمان کے مجرموں کو سزا دلانے کے لیے جمعیۃ علما ہند عدالت کا رخ کرے گی  اور اس کے علاج ومعالجہ کا بھی خرچ برداشت کرے گی ۔ پچیس سالہ متاثرہ شخص گھاسیڑہ کا رہنے والا ہے اور اس وقت شہید حسن خاں گورنمنٹ میڈیکل کالج میں زیر علاج ہے ۔ گزشتہ دو روز قبل جمعیۃ علما  ہند کا ایک وفد اس کی عیادت کرچکا ہے اور اس کے اہل خانہ سے مل کر دل جوئی بھی کی ہے۔


جمعیۃعلما ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر اس کے علاج ومعالجہ اور مقدمات کی مکمل پیروی کی ذمہ داری جمعیۃ علما گڑگاوں (گروگرام) نے لی ہے ۔ جمعیۃ علما  گڑگاوں کے صدر مفتی سلیم بنارسی جو جمعیۃ علما ہند کے وفد کا حصہ تھے ، انھوں نے فوری طور سے پچاس ہزار روپے کا چیک لقمان کے اہل خانہ کو سونپا ہے۔ جمعیت علما ہند کے وفد میں مرکز سے مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیت علما ہند، ریاستی صدر مولانا یحیی  کریمی، مفتی محمد سلیم بنارسی ، مولاناشیر محمد امینی ، مولانا صابر مظاہری، قاری محمد اسلم بڈیڈ، مولانا زکریا بھادس، ماسٹر محمد قاسم مہوں ، مولانا مبارک، مولانا زاہد امینی نوح شریک تھے۔


وفد نے حالات کے جائزے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاست ہریانہ میں ماب لنچنگ کے واقعات کچھ عرصوں پر رونما ہوتے رہتے ہیں ، اس کی ایک وجہ پولیس انتظامیہ کی طرف سے کارروائی میں تساہلی ہے ، فرقہ پرستوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایسے وحشیانہ اور مجرمانہ اعمال کے باوجود وہ قانون کی گرفت سے بچ جائیں گے ۔ چنانچہ عمرخاں، پہلو خاں، جنید وغیرہ کے واقعات میں واضح طور سے قتل کے باوجود مجرمین آزاد گھوم رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے بھی اس سلسلے میں ہدایات جاری کی تھیں جن میں بالخصوص ہر ضلع میں نوڈل افسر مقرر کرنے کا حکم تھا، لیکن اس سلسلے میں کوئی کارروائی نظر نہیں آئی ۔ لہذا ہریانہ سرکار کو اپنی ریاست میں ہونے والے ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لینی چاہیے۔


وفد نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ لقمان کے علاج و معالجہ کے علاوہ اسے دس لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے اور نہ صرف مجرموں کو سزاد ی جائے بلکہ مجرمانہ ذہنیت کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں ۔ وفد نے یہ محسوس کیا کہ گروگرام ایک سائبر سٹی ہے اور اسے دہلی کی طرح سے کازمو پولیٹن کی شناخت حاصل ہے ، ملک بھر سے لوگ یہاں اپنی روزی روٹی کی تلاش میں آتے ہیں اور کئی بڑی کمپنیاں یہاں کام کرتی ہیں ، اس کے باوجود مذہبی تشدد اور فرقہ وارانہ منافرت کو لے کر یہ شہر پوری دنیا میں بدنام ہورہا ہے ، جو ہرگز ملک کے مفاد میں نہیں ہے ، اس لیے بالخصوص گروگرام میں ایسی ذہنیت کو کچلنے کی ضرورت ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 09, 2020 07:19 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading