உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شوہر کا کسی دوسری خاتون سے تھا معاشقہ ، بیوی نے دوبیٹیوں کے ساتھ اٹھایا ایسا خوفناک قدم ، سبھی کے اڑگئے ہوش

    شوہر کا کسی دوسری خاتون سے تھا معاشقہ ، بیوی نے دوبیٹیوں کے ساتھ اٹھایا ایسا خوفناک قدم ، سبھی کے اڑگئے ہوش

    شوہر کا کسی دوسری خاتون سے تھا معاشقہ ، بیوی نے دوبیٹیوں کے ساتھ اٹھایا ایسا خوفناک قدم ، سبھی کے اڑگئے ہوش

    Rohtak News: خاتون کے اہل خانہ کے مطابق سونیا کا سات سالہ بیٹا مینک گزشتہ ایک ہفتہ سے اپنے نانیہال گیا ہوا ہے ۔

    • Share this:
      ہریانہ کے روہتک ضلع میں ایک دہل دہلادینے والا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ ضلع کے بوہر گاوں میں ایک خاتون نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ زہر کھا لیا ۔ تنوں کو سنگین حالت میں پرائیویٹ اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ، جہاں علاج کے دوران تینوں کی موت ہوگئی ۔ بتایا جارہا ہے کہ خاتون سونیا نے پہلے خود زہر کھایا اور اس کے بعد اپنی 14 سال کی بیٹی ریا اور 12 سال کی بیٹی دیا کو بھی زہر دیدیا ۔ معاملہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس جائے واقعہ پر پہنچی اور جانچ میں مصروف ہوگئی ۔

      مرنے والی خاتون کے مائیکہ کے لوگوں کی شکایت پر پولیس نے اس کے شوہر راجیش اور اس کی معشوقہ بتائی جارہی روہتک کی ایک لڑکی کے خلاف کیس درج کیا ہے ۔ لڑکی روہتک میں ایک اکیڈمی میں ٹیچر ہے ۔ راجیش شوگر مل میں ٹربائن اٹینڈنٹ ہے ۔ پولیس نے دیر شام ملزم راجیش کو گرفتار کرلیا ۔ اس کو آج کورٹ میں پیش کیا جائے گا ۔ پولیس کو ابھی تک کوئی خودکشی نوٹ نہیں ملا ہے ۔

      وہیں مائیکہ والوں نے الزام لگایا کہ راجیش اکیڈمی میں ٹیچر لڑکی سے اپنے تعلقات ختم نہیں کررہا تھا ۔ اس وجہ سے گھر میں کشیدگی رہتی تھی ۔ کچھ دن پہلے راجیش کی بڑی بیٹی ریا نے اپنے والد کی معشوقہ کے ساتھ بحث کی تھی اور اسی بات سے ناراض ہوکر راجیش نے گیارہویں کلاس میں پڑھنے والی اپنی بیٹی کی پڑھائی رکوا دی ۔ اس سے ریا کی ماں سونیا کو کافی تکلیف پہنچی تھی ۔

      ڈاکٹروں نے تینوں کو مردہ قرار دیا

      اتوار کی دوپہر سونیا ، ریا اور دیا کو سنگین حالت میں پہلے شہر کے ایک پرائیویٹ اسپتال اور بعد میں پی جی آئی لایا گیا تھا ۔ وہاں پر ڈاکٹروں نے تینوں کو مردہ قرار دیا ۔ بوہر میں تین اموات کی اطلاع  ملنے کے بعد کافی تعداد میں مقامی لوگ پی جی آئی اور اربن اسٹیٹ تھانہ پہنچ گئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: