உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انتخابات آنے پر ہی آتی ہے رام مندر کی تعمیر کی یاد: ہاشم انصاری

    اجودھیا۔ بابری مسجد کیس کے اہم مدعی ہاشم انصاری کو یہ گلہ ہے کہ ملک میں جب بھی اسمبلی یا لوک سبھا کا الیکشن آتا ہے تو اجودھیا میں شري رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کی بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔

    اجودھیا۔ بابری مسجد کیس کے اہم مدعی ہاشم انصاری کو یہ گلہ ہے کہ ملک میں جب بھی اسمبلی یا لوک سبھا کا الیکشن آتا ہے تو اجودھیا میں شري رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کی بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      اجودھیا۔ بابری مسجد کیس کے اہم مدعی ہاشم انصاری کو یہ گلہ ہے کہ ملک میں جب بھی اسمبلی یا لوک سبھا کا الیکشن آتا ہے تو اجودھیا میں شري رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کی بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔ چلنے پھرنے سے معذور 95 سالہ مسٹر انصاری نے آج یہاں اپنی رہائش گاہ پر یو این آئی سے کہا کہ ملک میں جب بھی لوک سبھا یا اسمبلی کا الیکشن آتا ہے تو اجودھیا میں واقع متنازعہ شري رام جنم بھومی پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی اتحادی تنظیم مندر کی تعمیر کا ذکر شروع کر دیتی ہیں جس سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل جاتی ہے۔


      انہوں نے کہا، ’مندر مسجد معاملہ جب ملک کے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے تو اس تنازعہ کو طول کیوں دیا جاتا ہے۔ میں اس مقدمے کو مدت سے لڑ رہا ہوں اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا ملک کا ہر مسلمان ماننے کے لئے تیار ہے۔ ’بابری مسجد کیس کے اہم مدعی نے کہا کہ اجودھیا میں واقع مندر مسجد تنازعہ کا حل دونوں فرقوں کے درمیان باہمی معاہدے سے نہیں ہو سکتا ہے۔ مشہور هنومان گڑھي مندر کے مہنت گیان داس کے ساتھ ہم نے اس تنازعہ کے حل کے لئے کافی کوششیں کیں لیکن کامیابی نہیں مل سکی۔


      مسٹر انصاری نے کہا کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے مشہور هنومان گڑھي مندر احاطے میں مسلمانوں نے نماز بھی ادا کی کہ آپس میں اتحاد قائم رہے، تب بھی سمجھوتہ نہیں ہو پایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاست کی وجہ سے اس تنازعہ کا حل ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا، ’میں چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں سپریم کورٹ کی طرف سے اس تنازعہ کا حل ہو، میں ضرور کہوں گا کہ اب اس مسئلے کو لے کر سیاست نہیں ہونی چاہیے‘۔


      ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 1992 میں جب بابری مسجد منہدم کی گئی تھی تو اس وقت کانگریس کی حکومت تھی اور ملک کے وزیر اعظم پي وي نرسها راؤ تھے۔ اس وقت ریاست میں مسٹر کلیان سنگھ کی قیادت میں ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ وزیر اعظم اگر چاہتے تو بابری مسجد کسی بھی حالت میں منہدم نہ  کی جاتی۔ مسٹر انصاری نے کہا، ’اس وقت جن لوگوں نے مسجد گرائی تھی، ان کو تو ملزم بنا دیا گیا لیکن مسٹر راؤ کو ملزم نہیں بنایا گیا۔ ملک کے وزیر اعظم مسٹر راؤ نے مسجد دوبارہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کی تعمیر نہیں کی۔ انہوں نے بی جے پی اور ان کے اتحادیوں پر مندر مسجد کے نام پر سیاست کرنے کا الزام لگایا۔

      First published: