ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ کے ہاشم پورہ قتل عام میں 16 پی اے سی جوانوں کوعمرقید، 42 لوگوں کا ہوا تھا بے دردی سے قتل

اس قتل عام میں 21 مارچ 2015 کو نچلی عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام 16 ملزمین کو عدم شواہد کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔

  • Share this:
میرٹھ کے ہاشم پورہ قتل عام میں 16 پی اے سی جوانوں کوعمرقید، 42 لوگوں کا ہوا تھا بے دردی سے قتل
ہاشم پورہ قتل عام میں آج دہلی ہائی کورٹ نے 16 ملزم پی اے سی جوانوں کو عمرقید کی سزا سنائی۔

میرٹھ کے ہاشم پورہ میں 1987 میں ہوئے قتل عام معاملے میں بدھ کو دہلی ہائی کورٹ نے تیس ہزاری کورٹ کا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے تمام 16 ملزم پی اے سی کے جوانوں کوعمرقید کی سزا سنائی ہے۔ 31 سال قبل مئی 1987 میں میرٹھ کے ہاشم پورہ میں 42 لوگوں کا بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔


اس قتل عام میں 21 مارچ 2015 کو نچلی عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام 16 ملزمین کو عدم شواہد کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ استغاثہ فریق، ملزمین کی شناخت اوران کے خلاف عائد الزامات کو بغیرشک کے ثابت نہیں کرپایا۔


ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو یوپی حکومت، قومی انسانی حقوق کمیشن اورکچھ دیگر متاثرین نے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج دیا تھا۔ اس کے علاوہ بی جے پی ممبرپارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے بھی عرضی دائرکرکے اس وقت کے وزیرپی چدمبرم کے کردارکی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔


عدالت نے تمام عرضیوں پرایک ساتھ سماعت کی۔ حالانکہ معاملے میں 17 ملزم بنائے گئے تھے، لیکن ٹرائل کورٹ کے دوران ایک ملزم کی موت ہوگئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے 6 ستمبرکو معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ اس معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے تمام 16 جانوں کو عمرقید کی سزا سنائی۔

معاملے میں 19 پی اے سی جوانوں کو قتل، قتل کی کوشش، ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ اورسازش کرنے کی دفعات میں ملزم بنایا گیا تھا۔ 2006 میں 17 لوگوں پرالزام طے کئے گئے۔ سماعت کے دوران دو ملزمین کی موت ہوگئی تھی۔

کیا ہے ہاشم پورہ قتل عام معاملہ؟

دراصل 1986 میں مرکزی حکومت نے بابری مسجد کا تالا کھولنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد مغربی یوپی میں ماحول گرم ہوگیا۔ 14 اپریل 1987 سے میرٹھ میں مذہبی اشتعال پیدا ہوگیا۔ کئی لوگوں کا قتل کیا گیا تو کئی دوکانوں اورگھروں کو آگ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ قتل، آگ زنی اورلوٹ کی وارداتیں ہونے لگیں۔

اس کے بعد بھی میرٹھ میں فسادات کی چنگاری نہیں ہوئی تھی۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے مئی کے ماہ میں میرٹھ شہرمیں کرفیو لگانا پڑا اورشہرمیں فوج کے جوانوں نے مورچہ سنبھالا۔ اسی درمیان 22 مئی 1987 کو پولیس، پی اے سی اورملٹری نے ہاشم پورہ محلے میں تلاشی مہم چلائی۔

الزام ہے کہ جوانوں نے یہاں رہنے والے نوجوانوں اوربزرگوں سمیت 100 لوگوں کو ٹرکوں میں بھرکرپولیس لائن لے گئے۔ شام کے وقت پی اے سی کے جوانوں نے ایک ٹرک کو دہلی روڈ پرمراد نگرگنگ نہر پرلے گئے تھے۔ اس ٹرک میں تقریباً 50 لوگ تھے۔ وہاں ٹرک سے اتارکرجوانوں نے ایک ایک کرکے لوگوں کو گولی مارکرگنگ نہرمیں پھینک دیا۔ اس حادثہ میں تقریباً 8 لوگ صحیح سلامت بچ گئے تھے، جنہوں نے بعد میں تھانے پہنچ کر اس معاملے میں رپورٹ درج کرائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:                   کچھ سیاستدانوں کی حمایت حاصل تھی : وبھوتی نارائن رائے

یہ بھی پڑھیں:     ہاشم پورہ قتل عام ریاست کی سب سے بڑی ناکامی: وبھوتی نارائن رائے

یہ بھی پڑھیں:  ہاشم پورہ قتل عام کیس سے متعلق پولیس افسران اور اہلکاروں کا ڈیوٹی ریکارڈ غائب
First published: Oct 31, 2018 12:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading