உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hathras Case: مبینہ اجتماعی عصمت دری متاثرہ کے کنبے کی سیکورٹی، ٹوائلٹ کے لئے بھی جا رہی پولیس

    فوٹو: سی این این۔ نیوز 18۔ فائل فوٹو

    فوٹو: سی این این۔ نیوز 18۔ فائل فوٹو

    ہاتھرس گاوں اور متاثرہ کا کنبہ کسی سازش کا شکار نہ ہو، اس کے لئے گھر کے ہر رکن کے لئے دو۔ دو سپاہیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کنبے کی خاتون ارکان کے لئے خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، پولیس اہلکار کنبے کے ارکان کے ساتھ ٹوائلٹ کے وقت بھی جاتے ہیں۔

    • Share this:
      ہاتھرس۔ اترپردیش واقع ہاتھرس (Hathras Case) میں مبینہ اجتماعی عصمت دری متاثرہ کا گھر اور گاوں پوری طرح سے پولیس چھاونی بن چکا ہے۔ متاثرہ کے گھر کے ہر رکن کو جہاں حکومت کی طرف سے سیکورٹی ملی ہوئی ہے وہیں گھر میں جانے سے پہلے میٹل ڈٹیکٹر سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، متاثرہ کے گھر کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔

      گاوں اور متاثرہ کا کنبہ کسی سازش کا شکار نہ ہو، اس کے لئے گھر کے ہر رکن کے لئے دو۔ دو سپاہیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کنبے کی خاتون ارکان کے لئے خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، پولیس اہلکار کنبے کے ارکان کے ساتھ ٹوائلٹ کے وقت بھی جاتے ہیں۔

      باہری شخص کے گاوں میں آنے سے پہلے ہوتی ہے جانچ

      رپورٹ کے مطابق، اگر کوئی باہری گاوں میں آتا ہے تو اسے دو پہیہ گاڑی اور چار پہیہ گاڑی لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی پانچ سے زیادہ لوگوں کے گاوں میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

      اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متاثرہ کے گھر کے باہر میٹل ڈیٹیکٹر لگا دئیے گئے ہیں اور دو خاتون کانسٹیبل تعینات ہیں جو سبھی کے شناختی کارڈ کی جانچ کر رہی ہیں۔ جو لوگ بھی وہاں پہنچ رہے تھے، سبھی کو ایک رجسٹر پر اپنا نام، پتہ، فون نمبر اور ادارے کا نام لکھنا ہوتا ہے۔ وردی میں تعینات پولیس اہلکاروں کے علاوہ سادی وردی میں بھی کئی پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ گاوں میں ایک سی او، تین انسپکٹر، دو خاتون داروغہ اور 21 کانسٹیبل تعینات کئے گئے ہیں۔


      غور طلب ہے کہ 14 ستمبر کو ہاتھرس میں چار نوجوانوں نے 19 سالہ دلت لڑکی کی مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی تھی اور پھر منگل کو دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں اس کی موت ہو گئی جس کے بعد بدھ کی رات کو اس کی لاش کی آخری رسوم ادا کر دی گئی۔ متاثرہ کے کنبے کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں رات میں آخری رسوم ادا کرنے کے لئے مجبور کیا۔



      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: