உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہمیں پوری دنیا کی صلاح نہیں چاہئے، ہاتھرس کیس پر سپریم کورٹ نے کہی یہ بات

    ہمیں پوری دنیا کی صلاح نہیں چاہئے، ہاتھرس کیس پر سپریم کورٹ نے کہی یہ بات

    ہمیں پوری دنیا کی صلاح نہیں چاہئے، ہاتھرس کیس پر سپریم کورٹ نے کہی یہ بات

    ہاتھرس معاملہ کی سماعت کے آخر میں چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا کہ انہوں نے ملزم، حکومت اور متاثرہ کو سن لیا ہے اور اب پوری دنیا کی رائے نہیں لیں گے۔ ایسے میں کسی نئے عرضی گزار کو اس میں نہیں سنیں گے۔

    • Share this:
      نئی دہلی/ ہاتھرس۔ اترپردیش کے ضلع ہاتھرس (Hathras Case) میں 19 سالہ لڑکی کی مبینہ طور پر ہوئی اجتماعی عصمت دری اور زبردستی لاش جلانے کے معاملے میں سپریم کورٹ میں جمعرات کو سماعت ہوئی۔ عدالت میں اس دوران کئی مسئلوں پر تیکھی بحث کو بھی دیکھنے کو ملی۔ یوپی حکومت نے متاثرہ کے کنبے کو سیکورٹی مہیا کرائے جانے کی تفصیل دی۔ وہیں، متاثرہ کنبہ نے عدالت میں کیس کا ٹرائل دہلی ٹرانسفر کرنے کی اپیل کی۔ معاملہ کی سماعت کے آخر میں چیف جسٹس (CJI) ایس اے بوبڈے نے کہا کہ انہوں نے ملزم، حکومت اور متاثرہ کو سن لیا ہے اور اب پوری دنیا کی رائے نہیں لیں گے۔ ایسے میں کسی نئے عرضی گزار کو اس میں نہیں سنیں گے۔

      عدالت کی طرف سے کسی بھی نئے شخص کو سیدھے الہ آباد ہائی کورٹ کے پاس جانے کو کہا گیا۔ وہیں، یوپی پولیس کی طرف سے سپریم کورٹ کو بھروسہ دیا گیا کہ عدالت سیکورٹی پر جو بھی حکم دے گی، اسے پورا کیا جائے گا۔ بتا دیں کہ اس معاملہ کی پہلی سماعت الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنئو بینچ میں ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں بنیادی طور پر کنبے کی سیکورٹی کے لئے عرضی دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے ابھی اس پر کوئی حکم نہیں دیا ہے۔


      آج ہوئی سماعت میں متاثرہ کے بھائی کے حوالے سے وکیل سپریم کورٹ میں سیما کشواہا نے مانگ کی ہے کہ جانچ پوری ہونے کے بعد ٹرائل دہلی میں ہو، سی بی آئی اپنی جانچ کی رپورٹ براہ راست طور پر سپریم کورٹ کو دے دے۔ وہیں، سالیسٹر جنرل نے کہا کہ سرکار سی بی آئی جانچ سے بچ نہیں رہی ہے بلکہ پورا تعاون کر رہی ہے۔ کنبے کو سیکورٹی دی گئی ہے۔ لیکن جو لوگ متاثرہ کے کنبے کا نام، پہچان عوامی کر رہے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں، یہ جرم ہے۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: