உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Krishna Janmabhoomi: متھرا عیدگاہ کے ASI سروے کا 4 ماہ میں ہو فیصلہ، الہ آباد ہائی کورٹ کا حکم

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    Krishna Janmabhoomi Vs Shahi Eidgah mosque: عرضی میں متھرا کے سول جج (سینئر ڈویژن) کو 13 مئی 2022 کو 2021 کے اصل مقدمے میں زیر التواء درخواست پر ایک مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت مانگی گئی تھی، جو کہ شری کرشنا ویراجمان بمقابلہ یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کے درمیان چل رہا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu | Delhi | Mumbai | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      Shahi Eidgah mosque: الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad high court) نے آج یعنی پیر کے روز متھرا کی ایک عدالت کو ہدایت دی کہ وہ سری کرشنا جنم بھومی مندر (Sri Krishna Janmabhoomi temple) سے متصل شاہی عیدگاہ مسجد کے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے سروے سے متعلق درخواست پر چار ماہ کے اندر حکم صادر کرے۔ جسٹس پیوش اگروال نے بھگوان شری کرشنا ویراجمان اور دیگر کی طرف سے دائر درخواست پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہ حکم دیا اور متھرا کی عدالت کو چار ماہ کے اندر درخواست پر فیصلہ صادر کرنے کی ہدایت کی۔

      عرضی میں متھرا کے سول جج (سینئر ڈویژن) کو 13 مئی 2022 کو 2021 کے اصل مقدمے میں زیر التواء درخواست پر ایک مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت مانگی گئی تھی، جو کہ شری کرشنا ویراجمان بمقابلہ یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کے درمیان چل رہا تھا۔

      متھرا کی عدالت کے سامنے دی گئی درخواست میں شاہی عیدگاہ مسجد کے اے ایس آئی کے ذریعہ کرائے گئے سروے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ چونکہ درخواست زیر غور ہے اس لیے درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      بلیک آؤٹ فٹ میں Akanksha Puri کی اب تک کی سب سے بولڈ تصویریں، میکا سنگھ نے یوں دیا ردعمل

      یہ بھی پڑھیں: 

      Trade with Pakistan: پاکستان کے ساتھ تجارت ممکن نہیں! ’پہلےسرحدپاردہشت گردی کوکیاجائےختم‘

      ہائی کورٹ نے کہا کہ مقدمہ کے حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ پٹیشن کو بالآخر نمٹا دیا جاتا ہے جس میں نیچے دی گئی متعلقہ عدالت کو قانون کے مطابق 13 مئی 2022 کی درخواست پر غور کرنے اور فیصلہ کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ جس پر تیزی سے اور ترجیحی طور پر چار ماہ کے اندر سماعت کی جائے۔

      عدالت نے مزید کہا کہ متھرا کی عدالت کو متعلقہ فریقوں کو موقع دینا چاہیے اور درخواست کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ اگر کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے تو فریقین میں سے کسی کو غیر ضروری التوا دیے بغیر ہی اس مسئلہ کو حل کیا جانا ضروری ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: