உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پڑھئے ، آخر کیوں یہاں صرف خواتین ہی کھیلتی ہیں ہولی

    ہمیر پور : اترپردیش میں ہمیر پور کے کنڈرا گاؤں میں ایک انوکھی روایت پر عمل کرتے ہوئے مرد ہولی کھیلنے سے پرہیز کرتے ہیں مگر خواتین رنگوں سے شرابور ہو کر پورے جوش وخروش سے ہولی کھیلتی ہیں اور ہولی کے تہوار سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ ہولی میں رنگ کھیلنے کے دن گاؤں کے مرد روز مرہ کی طرح کھیتی اور دیگر کام کاج نمٹاتے ہیں جبکہ بچے صاف شفاف گھروں میں ہی رہتے ہیں۔اس دن پورے گاؤں کی خواتین گاؤں کے ہی رام جانکی مندر میں یکجا ہونے کے بعد دھوم دھام سے ہولی کھیلتی ہیں۔

    ہمیر پور : اترپردیش میں ہمیر پور کے کنڈرا گاؤں میں ایک انوکھی روایت پر عمل کرتے ہوئے مرد ہولی کھیلنے سے پرہیز کرتے ہیں مگر خواتین رنگوں سے شرابور ہو کر پورے جوش وخروش سے ہولی کھیلتی ہیں اور ہولی کے تہوار سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ ہولی میں رنگ کھیلنے کے دن گاؤں کے مرد روز مرہ کی طرح کھیتی اور دیگر کام کاج نمٹاتے ہیں جبکہ بچے صاف شفاف گھروں میں ہی رہتے ہیں۔اس دن پورے گاؤں کی خواتین گاؤں کے ہی رام جانکی مندر میں یکجا ہونے کے بعد دھوم دھام سے ہولی کھیلتی ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ہمیر پور : اترپردیش میں ہمیر پور کے کنڈرا گاؤں میں ایک انوکھی روایت پر عمل کرتے ہوئے مرد ہولی کھیلنے سے پرہیز کرتے ہیں مگر خواتین رنگوں سے شرابور ہو کر پورے جوش وخروش سے ہولی کھیلتی ہیں اور ہولی کے تہوار سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔  ہولی میں رنگ کھیلنے کے دن گاؤں کے مرد روز مرہ کی طرح کھیتی اور دیگر کام کاج نمٹاتے ہیں جبکہ بچے صاف شفاف گھروں میں ہی رہتے ہیں۔اس دن پورے گاؤں کی خواتین گاؤں کے ہی رام جانکی مندر میں یکجا ہونے کے بعد دھوم دھام سے ہولی کھیلتی ہیں۔
      اس عجیب و غریب روایت کے پیچھے مقامی لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ تیس سال پہلے ہولی کے دن گاؤں کے رام جانکی مندر میں جب گاؤں کے لوگ پھاگ گا رہے تھے اسی وقت علاقے کے ایک انعامی ڈاکو ممبر سنگھ نے گاؤں کے ہی راج پال (50)کو گولی مارکر قتل کردیا تھا۔  ڈاکو کو شبہ تھا کہ وہ شخص پولس کا مخبر تھا ۔اس واقعہ سے غم زدہ مقامی نے کئی برسوں تک ہولی نہیں منائی ۔یہ بات خواتین کو ناگوار گزری ۔پہلے تو انہوں نے اپنے شوہروں کو سمجھانے کی کوشش کی اور نہ ماننے پر گاؤں کی سبھی خواتین مندر میں یکجا ہوئیں اور فیصلہ کیا کہ ہو لی کے دن گاؤں کی سبھی خواتین پورے رسم ورواج سے تہوار منائیں گی۔اس میں مردوں کی کوئی حصہ داری نہیں رہے گی۔
      گرام پردھان اودھیش یادو نے بتایا کہ ہولی میں خاص بات یہ ہے کہ گاؤں کے بزرگوں کے احترام میں پردے میں رہنے والی خواتین تہوار کے دن گھونگھٹ سے ایک دم پرہیز کرتی ہیں۔خواتین کی ٹولی ناچ گانےکے ساتھ گاؤں کے ہر چھوٹے بڑے مندر میں جاتی ہے ۔گاؤں کے لالتا پرساد دویدی ،جھبو سنگھ ،رمیش یادو ،رمیش ورما کا کہنا ہے کہ گاؤں کی کسی بہو کو اس پروگرام میں شریک ہونے میں پریشانی نہ ہو اس لئے سبھی مرد صبح ہی کھیت پر چلے جاتے ہیں۔اس پروگرام میں ہر طبقے کی خواتین شامل ہوتی ہیں اور گھر میں ان کا استقبال رنگ گلال اور مٹھائیوں سے ہوتا ہے۔

      First published: