ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سکھ فسادات کے قصورواروں کو سزا ہوتی ، تو گجرات اور دادری کے واقعات نہیں ہوتے

نئی دہلی:دہلی کے وزیراعلی اروند کیجری وال نے آج سکھ کش فسادات میں مرنے والوں کے اعزہ کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے چیک دیئے اور کہا کہ اگر 1984 میں ہی قصورواروں کو سزا مل جاتی تو دادری یا 2002 کے گجرات کے فسادات جیسے فسادات رونما نہ ہوئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 01, 2015 08:49 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سکھ فسادات کے قصورواروں کو سزا ہوتی ، تو گجرات اور دادری کے واقعات نہیں ہوتے
نئی دہلی:دہلی کے وزیراعلی اروند کیجری وال نے آج سکھ کش فسادات میں مرنے والوں کے اعزہ کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے چیک دیئے اور کہا کہ اگر 1984 میں ہی قصورواروں کو سزا مل جاتی تو دادری یا 2002 کے گجرات کے فسادات جیسے فسادات رونما نہ ہوئے۔

نئی دہلی:دہلی کے وزیراعلی اروند کیجری وال نے آج سکھ کش فسادات میں مرنے والوں کے اعزہ کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے چیک دیئے اور کہا کہ اگر 1984 میں ہی قصورواروں کو سزا مل جاتی تو دادری یا 2002 کے گجرات کے فسادات جیسے فسادات رونما نہ ہوئے۔


مغربی دہلی کے تلک نگر علاقہ میں جو 1984 کے فسادات میں سب سے زیادہ متاثر ہو اتھا۔ مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مسٹر کیجری وال نے یہ بھی کہا کہ ہم اس کا انتظام کریں گے کہ قانونی ماہرین مرکز کے ذریعہ تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم کے جواز کا جائزہ لیں۔ مسٹر کیجری وال اپنے نائب منیش سسودیا کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔


مسٹر کیجری وال نے کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے کے فورا بعد ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی مگر 49 دن کے بعد ان کے حکومت سے دست بردار ہونے کے بعد اسے توڑ دیا گیا۔ انہوں نے شکایت کی ان کی پارٹی کے برسراقتدار آنے سے صرف ایک دن قبل مرکز نے دوبارہ ایس آئی ٹی تشکیل دی کیونکہ اسے یہ خوف تھا کہ دہلی حکومت کی تشکیل کردہ ایس آئی ٹی قصورواروں کے خلاف کارروائی کرے گی جو بی جے پی نہیں چاہتی تھی۔ مسٹر کیجری وال نے کہا کہ دہلی کی پچھلی حکومت کے ارادے اگر نیک ہوئے تو انصاف ملنے میں اتنی تاخیر نہ ہوتی۔

First published: Nov 01, 2015 08:49 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading