ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہائی کورٹ نے پولیس کو دیا حکم ، مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے والی لڑکی کو مہیا کرے سکیورٹی

پولیس کا کہنا ہے کہ کورٹ کے حکم اور ہدایات کے مطابق حفاظتی انتظام اور کارروائی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • Share this:
ہائی کورٹ نے پولیس کو دیا حکم ، مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے والی لڑکی کو مہیا کرے سکیورٹی
پولیس کا کہنا ہے کہ کورٹ کے حکم اور ہدایات کے مطابق حفاظتی انتظام اور کارروائی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مغربی یو پی کے میرٹھ میں مذہب تبدیلی کے بعد کہکشاں نے غیر مذہب کے لڑکے سے شادی کی اور پھر اپنے گھر والوں سے جان کے خطرے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس سے حفاظت کی گزارش کی تھی لیکن سنوائی نہ ہونے پر کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اب اس معاملے میں ہائی کورٹ نے میرٹھ پولیس کو شادی شدہ جوڑے کو سکیورٹی مہیا کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔ میرٹھ کے اِچولی تھانہ علاقے کے لاوڑ قصبے کی رہنے والی کہکشاں نے مذہب تبدیل کرکے اپنے نام یتی رکھا اور پھر 16 اپریل کو ہندو مذہبی طریقے سے غیر مسلم لڑکے سے شادی کر لی تھی۔


شادی کے بعد لڑکی نے اپنے گھر والوں سے جان کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس سے حفاظت کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس معاملے میں پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کیے جانے کی صورت میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور کورٹ نے سیکیورٹی کو لیکر میرٹھ پولیس کو حکم جاری کیا لیکن اب اس معاملے میں نیا پہلو یہ آ گیا ہے کہ اپنے گھر والوں سے جان کا خطرہ بتانے والی لڑکی اس وقت اپنے مائیکے والوں کے ساتھ ہی رہ رہی ہے۔ فی الحال لڑکی کے گھر پر تالا لگا ہے اور پولیس لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو تلاش کر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔




پولیس کا کہنا ہے کہ کورٹ کے حکم اور ہدایات کے مطابق حفاظتی انتظام اور کارروائی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لڑکی گھر والوں کی بھی جانکاری حاصل کرکے حقیقت معلوم کرنے کی کاروائی کی جا رہی ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 29, 2021 12:57 PM IST