உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹوئٹر پر چلا #HijabisOurRight کا ٹرینڈ، کرناٹک میں مسلم طالبات کی ہورہی ہے جم کر تائید

    کرناٹک (Karnataka) کے اُوڈپی ضلع (Udupi) کے ایک کالج کی طرف سے کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے والی طالبات کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے فوری بعد سے ہی ٹوئٹر پر ’حجاب ہمارا حق ہے‘ یعنی #HijabisOurRigh کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

    کرناٹک (Karnataka) کے اُوڈپی ضلع (Udupi) کے ایک کالج کی طرف سے کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے والی طالبات کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے فوری بعد سے ہی ٹوئٹر پر ’حجاب ہمارا حق ہے‘ یعنی #HijabisOurRigh کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

    کرناٹک (Karnataka) کے اُوڈپی ضلع (Udupi) کے ایک کالج کی طرف سے کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے والی طالبات کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے فوری بعد سے ہی ٹوئٹر پر ’حجاب ہمارا حق ہے‘ یعنی #HijabisOurRigh کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

    • Share this:
      کرناٹک (Karnataka) ضلع کے اڈوپی (Udupi) کے ایک کالج میں کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے والی طالبات کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے فوری بعد سے ہی ٹوئٹر پر ’حجاب ہمارا حق ہے‘ یعنی #HijabisOurRigh کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

      ٹوئٹر صارفین نے اڈوپی کی ان باہمت اور بے باک لڑکیوں کے بارے میں ٹوئٹ کیا، جو اپنی آزادیٔ انتخاب (Freedom of choice) کے حق کے لیے لڑ رہی ہیں۔ ہیش ٹیگ ’حجاب ہمارا حق ہے‘ (Hijab is our Right) ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے جس کے ساتھ سوشل میڈیا صارفین نے ان طالبات کو ہراساں کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ اس سے قبل اسکول کے پرنسپل کی جانب سے لڑکیوں کو باہر کرتے ہوئے اسکول کے دروازے بند کرنے کی ویڈیو پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کی شروعات ایک کالج سے ہوئی تھی، لیکن اب دو دیگر کالج بھی ایسی طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

      ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’طالبان لڑکیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہندوستان میں سنگھی نسل کشی کرنے والے سر پر اسکارف پہنے مسلم لڑکیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ وہ پڑھی لکھی مسلم خواتین سے خوفزدہ ہیں۔ اس سے انھیں بہت ڈر لگتا ہے۔ #HijabisOurRight‘


      ’واقعی ہمیں حیران کر دیا، کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے شہریوں کو بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے، یہ ان کا بنیادی حق ہے‘۔


      ’’آئیے ہم سب اپنی بہنوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہو جائیں...اس امتیازی سلوک کی وجہ کیا ہے..انہیں کالجوں میں داخلے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی..صرف اس لیے کہ وہ حجاب پہنتی ہیں یہ اسکول سے باہر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے‘‘۔


      ’’اسلام میں حجاب پہننے پر زور دیا گیا ہے لہذا کرناٹک حکومت کی طرف سے ہندوستانی آئین کے دفعہ 25 کی خلاف ورزی ہندوستان کے آئین سے ان کی لاپرواہی کو ظاہر کرتی ہے‘‘۔


      کرناٹک کے ایک اور گورنمنٹ کالج میں حجاب پہننے کی وجہ سے داخلے سے انکار پر پرنسپل سے مسلم لڑکیوں نے بار بار درخواست کی، لیکن انھیں اس کے باوجود بھی اندر جانے نہیں دیا گیا۔ انھیں کہا گیا کہ لڑکیوں سے درخواست ہے کہ وہ امتحانات سے قبل تعلیم سے انکار کرکے اپنا مستقبل برباد نہ کریں۔

      ’’وہ اسکولوں/کالجوں میں حجاب پر پابندی لگا رہے ہیں گویا وہ اسے خریدنے کے لیے اپنی فیس سے کچھ رقم کاٹ رہے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اس میں کیا مسئلہ ہے۔ حجاب ایک انتخاب ہے۔ اگر آپ کسی کو اسے پہننے پر مجبور نہیں کر سکتے تو پھر بالکل اسی طرح آپ کسی کو اسے ہٹانے پر مجبور نہیں کر سکتے‘‘۔

       واضح رہے کہ حجاب دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات اور مسلم تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں بیشتر مسلم خواتین حجاب کرتی ہیں۔ اس کے باوجود حجاب (Hijab) کو عالمی سطح پر متنازعہ موضوع بنایا جارہا ہے۔ کئی مسلم خواتین کو خدشہ ہے کہ انھیں جب چاہیں حجاب پہننے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ان کا حق انتخاب (Right to Choice) ہے۔ جسے وہ خود پسند کرتی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: