உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive:حجاب تنازع پر بولے عارف محمد خان، جنہیں یونیفارم پسند نہیں وہ باہر جائیں، نظم و ضبط ضروری ہے

    Hijab Controversy: عارف محمد نے مزید کہا، 'جب آپ نے داخلہ لیا تو آپ کو ڈریس کوڈ کے بارے میں پتہ تھا۔ اس لیے تم اس کے خلاف بغاوت نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کو وہاں کا ماحول اچھا نہیں لگتا تو آپ کسی اور ادارے میں چلے جائیں۔ بنیادی طور پر لوگ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    Hijab Controversy: عارف محمد نے مزید کہا، 'جب آپ نے داخلہ لیا تو آپ کو ڈریس کوڈ کے بارے میں پتہ تھا۔ اس لیے تم اس کے خلاف بغاوت نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کو وہاں کا ماحول اچھا نہیں لگتا تو آپ کسی اور ادارے میں چلے جائیں۔ بنیادی طور پر لوگ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    Hijab Controversy: عارف محمد نے مزید کہا، 'جب آپ نے داخلہ لیا تو آپ کو ڈریس کوڈ کے بارے میں پتہ تھا۔ اس لیے تم اس کے خلاف بغاوت نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کو وہاں کا ماحول اچھا نہیں لگتا تو آپ کسی اور ادارے میں چلے جائیں۔ بنیادی طور پر لوگ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی. کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے ان دنوں کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ  (Hijab Controversy) کے بارے میں اپنی واضح رائے دی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ جو لوگ تعلیمی اداروں میں یونیفارم پہننا پسند نہیں کرتے وہ باہر جاسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اسکول اور کالج میں نظم و ضبط بہت ضروری ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کرناٹک میں حجاب کا معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے اس معاملے پر عبوری حکم جاری کیا ہے۔

      نیوز 18 انڈیا سے خصوصی بات کرتے ہوئے گورنر عارف محمد خان نے کہا، 'اگر کسی کو یونیفارم پسند نہیں ہے تو اسے انسٹی ٹیوٹ چھوڑ دینا چاہیے، نظم و ضبط پر عمل کرنا چاہیے اور نظم و ضبط کو توڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ نظم و ضبط اداروں کی بنیاد ہے۔ نظم و ضبط کے بغیر زندگی نہیں چل سکتی۔ جب آپ اپنی تعلیم مکمل کریں گے اور جب آپ باہر جائیں گے تو یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ جو لباس پہننا چاہیں پہنیں۔

      تہذیب اور ثقافت ہے ضروری
      عارف محمد خان کا مزید کہنا ہے کہ 'میرا یہ ماننا ہے کہ کون کیا پہنتا ہے، اس پر کبھی بھی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہر شخص کا حق ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ مہذب ہونا چایئے، تہذیب و ثقافت ہونی چاہئے۔ جو فوج میں ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں جو چاہوں پہنوں گا، پولیس والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں جو چاہوں گا پہنوں گا۔

      اگر آپ کو ماحول پسند نہیں ہے تو آپ جا سکتے ہیں۔
      عارف محمد نے مزید کہا، 'جب آپ نے داخلہ لیا تو آپ کو ڈریس کوڈ کے بارے میں پتہ تھا۔ اس لیے تم اس کے خلاف بغاوت نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کو وہاں کا ماحول اچھا نہیں لگتا تو آپ کسی اور ادارے میں چلے جائیں۔ بنیادی طور پر لوگ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: